نِگاہِ دِل سے جو دیکھا جمال پُھولوں کا

نِگاہِ دِل سے جو دیکھا جمال پُھولوں کا
تمام عُمر رہا پِھر خیال پُھولوں کا

جو دیکھے، دیکھتا رہ جائے حُسنِ گُلشن کو
اب اِس سے بٙڑھ کے بھی کیا ہو کمال پُھولوں کا

نِکلتا کیسے بٙھلا مٙیں جہانِ خُوشبُو سے
ہر ایک سٙمت ہی پھیلا تھا جال پُھولوں کا

خٙزاں کی رُت ہی تھی یا پِھر وبال تھا کوئی ؟
کہ مُجھ سے دیکھا نہ جاتا تھا حال پُھولوں کا

پڑے نہ واسطہ کانٹوں سے کِس طٙرٙح کیفی
بٙہار کا ہے یہ موسم تٙو سال پُھولوں کا

محمود کیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے