نیندیں چرا کے لے گیا سیلاب نامراد

نیندیں چرا کے لے گیا سیلاب نامراد
سب کچھ گدا کے لے گیا سیلاب نامراد
لاڈو کی پیاری گڑیا۔ منے کے کھلونے
کچھ قیمتی جواہر کچھ خاص بچھونے
وہ بھی اٹھا کے لے گیا سیلاب نامراد
کچھ بھی رہا نہ باقی عمر بھر جو کمایا
ملتے ہی ھاتھ رہ گے کچھ ھاتھ نہ آیا
سب کچھ گرا کے لے گیا سیلاب نامراد
کچھ خاص نباتات تھے کچھ خاص حیوانات
سب کچھ تباہ کر گیا پل بھر میں جمادات
سب گھر مٹا کے لے گیا سیلاب نامراد
چیخ و پکار ہر سو ڈین دیتی سنائی
روز حشر سے قبل قیامت سی ہے آئی
دیئے بجھا کے لے گیا سیلاب نامراد
عمران ڈین

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے