نیند میں خواب کھُلے خواب میں ہو نیل پری

نیند میں خواب کھُلے خواب میں ہو نیل پری
اچھی لگتی ہے مجھے کیفیتِ بے خبری
پھر وہی تو وہ ترا شہر ترے شہر کے لوگ
پھر وہی میں مرا کاسہ مری دریوزہ گری
ایک کونے میں بچھایا ہوا اُس شاہ کا تخت
کسی دربار کی صورت میں سجی بارہ دری
ایک منظر کو بنانے میں ہوئی عمر تمام
خوب احساسِ زیاں ہے یہ مری کم ہنری
ورنہ میرے لیے بے تاب کہاں تھا کوئی
مجھے اپنی ہی تگ و دو سے ملی خوش خبری
مرے عیسٰی ترا مصرف ہی بھلا کیا ہوگا
وقت پر کام نہ آئی جو تری چارہ گری
آج تک خود میں کمی ڈھونڈ رہا تھا آزر
آئینہ دیکھ کے یاد آئی تری دیدہ وری
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے