نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے
تو مرے خواب میں آئے تو مزہ آ جائے
دشت میں شام ڈھلے،خیمہ وحشت کے تلے
ریت، حیرت کو سلائے تو مزہ آ جائے
دل کی دیوار پہ اُس شخص کی آواز سے میں
دیکھوں اظہار کے سائے تو مزہ آ جائے
شام کی نبض رکی، رات نے آنکھیں کھولیں
نیند اب تجھ سے ملائے تو مزہ آ جائے
آج بادل ہیں ،ستارے بھی چھُپے بیٹھے ہیں
رات اب ’ہیر‘ سنائے تو مزا آ جائے
میرے پہلو میں ہو درویش نگاہوں والی
وقت وہ پل بھی دکھائے تو مزہ آ جائے
جو پرندہ ترے آنے کی خبر دیتا ہے
وہ مجھے ڈھونڈ نہ پائے تو مزہ آ جائے
شام کے ساتھ برستی ہوئی حیرت میں سعید
وہ مرے ساتھ نہائے تو مزہ آ جائے
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے