نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے

نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے
صبحِ تعبیر بھی تحویل میں رکھی جائے

کیا ضروری ہے اندھیرے کو نگلتی ہوئی آنکھ
اونگھتی لو تری تشکیل میں رکھی جائے

صبر کو سینچتی حیرت کے تخیر کی لپک
کوزہ گر , پیکرِ تمثیل میں رکھی جائے

دشت میں دفن کیا جائے بدن کا گریہ
اور مری پیاس کسی جھیل میں رکھی جائے

بے سبب شہرِ سماعت میں خموشی کی رڑک
ان کہی بات کی تعمیل میں رکھی جائے

در و دیوار فقط راکھ سمیٹیں رو کر
شعلگی ہجر کی قندیل میں رکھی جائے

زخم کِھلتا ہے نہ کُھلتا ہے کسی پر ارشاد
جب اذیت کی کسک نیل میں رکھی جائے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے