Nazrun mein us ny Mujhy

نظروں میں اُس نے مجھ سے اِشارات آج کی​
کیا تھا یہ خواب کچھ نہ کھلی بات آج کی​
میں نے تو بھر نظر تجھے دیکھا نہیں ابھی​
رکھیو حساب میں نہ ملاقات آج کی​
اک بات تلخ کہہ کے کیا زہر عشق سب​
تُو نے ہماری خوب مدارات آج کی​
یہ گفتگو کبھی بھی نہ آئی تھی درمیان​
جو کچھ کہ تُو نے حرف و حکایات آج کی​
دل میں یہی تھی میرے کہ دورِ شراب ہو​
میں سچ کہوں یہ تُو نے کرامات آج کی​
بلبل کے ناؤں پر بھی نہ آیا، بھلا ہوا​
صیّاد تیری خالی گئی گھات آج کی​
عیشِ شبِ وصال کو ہے صبحِ ہجر بھی​
ٹھہری ہے یار کل پہ ملاقات آج کی​
بھولے سے نام لے کے مرا ہٹ پٹا گیا​
پیاری لگی یہ مجھ کو تری بات آج کی​
مجھ پہ یہی قلق جو رہے گا تو یار بِن​
کس طرح شب یہ گزرے گی ہیہات آج کی​
اب تو جو کچھ ہوا، سو ہوا خیر رات ہے​
قسمت میں دیکھنی تھی یہ آفات آج کی​
لیکن مجھے تو پھر وہیں کل دیکھیو حسنؔ​
گر خیر و عافیت سے کٹی رات آج کی​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے