نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں

نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں
وعدہ تمھارے پاؤں کی زنجیر تو نہیں
تیری ہر ایک بات میں سو رنگ ہیں مگر
میرے کسی بھی خواب کی تعبیر تو نہیں
نظریں ملا کے کس طرح میں گفتگو کروں
تم خود ہو میرے سامنے تصویر تو نہیں
تیری یہ ضد ہے ساتھ گزاریں گے زندگی
اے دوست میرے ہاتھ میں تقدیر تو نہیں
اقرارِ جرم ہی سہی اعلانِ عاشقی
لیکن کسی کو چاہنا تقصیر تو نہیں
سجدے میں گر کے بس تجھے مانگا ہے بار بار
گرچہ مری دعاؤں میں تاثیر تو نہیں
ہر پل بس ایک شخص کے بارے میں سوچنا
واعظ تری نگاہ میں تکفیر تو نہیں؟
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے