نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے

نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے
دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے
چل دئیے چھوڑ کے احباب ہمارے کتنے
وقت نے چھین لئے دل کے سہارے کتنے
موج وحشت نے سفینے کو ٹھہرنے نہ دیا
راہ آئے ہیں مری رہ میں کنارے کتنے
رکھ لیا ہم نے تری مست نگاہی کا بھرم
بے خودی میں بھی ترے کام سنوارے کتنے
جیتنے والے محبت میں بہت ہیں باقیؔ
دیکھنا یہ ہے کہ اس کھیل میں ہارے کتنے
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے