سیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!

علامہ اقبالؒ کی شاعری میں ہمیشہ امت کا درد‘ آزادی‘ اتحاد‘یگانگت‘شعور بیداری کے پیغام کے ساتھ ہی امت کے زوال کا درد بھی ہے‘اُنہوں نے درسِ حریت سے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ اُنہوں نے مرض کی صحیح تشخیص کر کے نہ صرف غلامی کے خلاف علم بلند کیا۔ بلکہ تہذیبی‘ تمدنی‘ معاشرتی اور ذہنی غلامی کا طلسم بھی پاش پاش کیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے استعماری دور میں مسلمان ممالک غلامی میں پوری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ ان پر سیاسی‘معاشی‘ معاشرتی‘ تہذیبی و تمدنی غلامی مسلط تھی۔ ان حالات میں مسلمان آزادی کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔ علامہ اقبال کا شمار آزادی کے ان قائدین میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے اپنی ولولہ انگیز شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ پیدا کی۔ ورنہ مسلمان غلامی کے خوگر ہو چکے تھے۔ جب آزادی کی امنگ اور تڑپ ہی باقی نہ رہے تو پھر غلامی کے مہیب سائے حقیقت میں بدل جاتے ہیں‘اقبالؒ نے حیرت انگیز پیش بینی کے ساتھ اپنے اِسی ترانے میں ہمیں سامراجی حکمتِ عملی سے بھی خبردار کیا تھا:فریاد ز افرنگ و دِل آویزی افرنگ‘فریاد ز شیرینی و پرویزی افرنگ‘عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ‘معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز‘از خوابِ گراں‘خوابِ گراں خوابِ گراں خیز!

دُنیائے اسلام کے زوال اور محکومی پر اقبال کی دل سوزی اور دردمندی کے متعدد واقعات ہیں۔ سیّد نذیر نیازی نے اپنی بیاضِ یادداشت میں لکھا ہے کہ وفات سے فقط چند ہفتے پیشتر‘ ایک دوپہر علامہ اقبالؒ نے خاموش لیٹے لیٹے اچانک ”حُقّے کا کش لگایا اور کہنے لگے: وسطِ ایشیا ء میں چار کروڑ ترک آباد ہیں۔ ان کا اتحاد کیوں ممکن نہیں؟ میں نے عرض کیا: ”یہ تحریک تو پرانی ہے‘ لیکن اس و قت روس کی وہ کیفیت نہیں جو کبھی تھی‘یعنی اشتراکی انقلاب سے پہلے۔ روس اب تک بہت بڑی طاقت ہے۔ روس کی موجودگی میں یہ اتحاد کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے بڑی طاقت اور بڑے تدبر کی ضرورت ہے۔ یوں بھی وسطِ ایشیاء میں شاید اب اس قسم کی کسی تحریک کا وجود نہیں۔ تھا بھی تو 1922ء میں ختم ہو گیا۔ عثمانی ترک اپنی الگ تھلگ قومیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا اور تیموری ترکوں کا رابطہ مدت ہوئی ٹوٹ چکا ہے۔ یوں بھی روس کی گرفت نے مدت ہوئی اس کا خاتمہ کر دیا۔ حضرت علامہ نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا‘ البتہ ایک بار پھر کروٹ بدلتے ہوئے فرمایا: ”وسطِ ایشیاء میں چار کروڑ ترک آباد ہیں۔ ترک کیوں متحد نہیں ہوتے؟کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ‘نہ تھے ترکان عثمانی سے کم ترکان تیوری۔
ترکی میں پاکستان کے پہلے سفیر میاں بشیر احمد نے لکھا ہے کہ ”ایک دفعہ اقبالؒ کی شاعری‘ پیغام اور اسرارِ خودی‘ رموزِ بے خودی‘ پیامِ مشرق وغیرہ کا ذکر آ گیا تو انگریزی میں کہا:”There is a Crust at the heart of Central Asia. I want to break through it.”

وسطِ ایشیا ء کے مسلمانوں کی بیداری‘ آزادی اوراتحاد کی یہ آرزو اقبالؒ کی عزیز ترین تمنّاؤں میں سے ایک ہے۔ ہرچند وہ اِس بات پر خوش تھے کہ عثمانی تُرکوں نے اپنا مقدّر اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔یہ امر اُن کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنا رہاکہ تیموری تُرک رُوسی اشتراکی آمریت کے پنجہ استبداد میں پڑے تڑپ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ لوہے کی دیوار (Iron Curtain)کے اُس پار اپنا پیغام خودی و خود مختاری پہنچانے میں مصروف رہتے تھے۔اپنی نظم ”تاتاری کا خواب“میں اگر ایک طرف وہ وسطِ ایشیا ء کو کرب و بلاکی انگشتری کا نگینہ قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب وہ وسطِ ایشیاء کے باشندوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنی اجتماعی خودی کے سوز و ساز سے دُنیا کو ایک بار پھرایک نئے انقلاب کی نوید دیں:اگر محصور ہیں مردانِ تاتار‘نہیں اللہ کی تقدیر محصور‘تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے‘کہ تورانی ہو تورانی سے مہجور؟

اقبالؒ بابر کے مقدّر پر رشک کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی سرزمین میں آسودہ خاک ہے جو طلسمِ فرنگ سے آزاد ہے۔ آج اِس حقیقت کے ثبوت موجود ہیں کہ سوویت یونین کی سفّاک آمریت کے پنجہ استبداد میں تڑپتے ہوئے مسلمانوں تک اقبالؒ کا انقلابی پیغام برابر پہنچتا رہا ہے۔اسلام کا چراغ تہِ داماں ہی سہی روشن رہا ہے اور یُوں وسطِ ایشیا ء کے مسلمان‘در پردہ ہی سہی‘ اپنے اپنے مسلک پرقائم رہے۔ وسطِ ایشیا ء میں صدیوں سے مروّج صوفی مسالک کے فیضانِ مسلسل پر روشنی ڈالتے ہوئے احمد رشید نے درست لکھا ہے کہ:
The massive Islamic revival that took place during Gorbachev’s glasnot could not have emerged from a vacuum. Sufism was the mystical trend of Islam that originated in Persia and Central Asia soon after the arrival of the Arabs.”
برصغیر میں تصوّف و حکمت اور شعر و ادب کی روایت پر وسطِ ایشیاء کی صوفیانہ و حکیمانہ اور شعری و فکری تحریکوں کے گہرے اور اَن مِٹ اثرات ہیں۔ اقبال کو شاہ ہمدان کے زیر اثر کشمیر میں سیّد علی ہمدانی سے لے کر نور الدین ولی تک فروغ پانے والی ادبی روایت ورثہ میں ملی تھی۔ اقبالؒ کے گھر کا ماحول صوفیانہ تھا۔ اقبال کو وسطِ ایشیاء کی صوفیانہ اور شاعرانہ ہر دو روایات گویا گُٹھی میں ملی تھیں۔ خود اُنہوں نے اِس حقیقت کا اعتراف درج ذیل شعر میں کیا ہے:اگرچہ زادہ ہندم فروغِ چشمِ من است‘زِ خاکِ پاکِ بخارا و کابل و تبریز‘اقبال مسلمانوں کے ماضی کا خیال کرتے ہیں تو اُنہیں وسطِ ایشیاء کا شاندار ماضی یاد آتا ہے۔ اقبال اُسی کے عکس پر وسطِ ایشیا ء کا مستقبل تعمیر کرنے کے تمنّائی ہیں۔اقبال عہدِ حاضر کے ایک یگانہروزگار شاعر، فلسفی اور دانشور تھے۔ اُن کے فنّی اور فکری کمالات کو تین دائرہ ہائے عمل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی ذات بیک وقت برصغیر‘ دُنیائے اسلام اور دُنیائے انسانیت کو مادی اور روحانی ترقی و تکمیل کی جانب گامزن دیکھنے کی تمنّائی رہی۔

اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے اقبال وسطِ ایشیاء کی محکومی اور میں روسی استبداد کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ وسطِ ایشیا ء کو پھر سے بیدار ہونے اور تعمیرِ جہاں میں اپنا کردار ادا کرنے کا فریضہ یاد دلاتے رہتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جب فارسی زبان دنیائے عجم کی تہذیبی و فکری وحدت اور مسلمانوں کے عروج و ارتقا کی مقبولِ عام ترجمان تھی۔پھر وہ وقت آ پہنچاجب برطانوی استعمار بلادِ اسلامیہ ہند میں اپنی جنسِ تجارت اُتارتا ہے۔ کم و بیش اسی زمانے میں زارِ روس وسطِ ایشیاء میں انتشار کے بیج بونا شروع کرتا ہے۔ چنانچہ اسلامی ہند رفتہ رفتہ برطانوی ہند بن جاتا ہے اور وسطِ ایشیاء‘ سوویت وسطِ ایشیاء کے نام سے موسوم ہو جاتا ہے۔ یوں دُنیائے اسلام میں شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا ایک کارنامہ خاص یہ ہے کہ وہ اپنے وقت میں اس وحدت کی بازیافت کی خاطر فارسی شاعری کا آغاز کرتے ہیں اور منجمد خون کی اُس پپڑی کو ریزہ ریزہ کر دینے میں مصروف ہو جاتے ہیں جس نے ساری کی ساری دُنیائے عجم کے رگ و ریشے میں زندہ خون کی گردش کو بند کر رکھا ہے۔ہرچند آج وسطِ ایشیا کے دل پر جمی ہوئی پپڑی (Crust) ٹوٹ پھوٹ چکی ہے تاہم اقبالؒ کے چہرے پر آج بھی تشویش کی وہ لہر موجود ہے جو بابر کے مزار پر کھڑے اقبالؒ کے چہرے سے عیاں تھی۔ اقبالؒ آج بھی متفکر ہیں کہ کب ہم عالمی استعمار کے اس طلسم کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
دورِ حاضر الحاد‘ مادہ پرستی‘ خود پرستی‘ظاہر پرستی اور نا شکیبائی کا ہے۔بے یقینی‘ بے اطمینانی اور تشکیک کا دور ہے۔ امتِ مسلمہ بھی ان امراضِ میں مبتلا ہے۔ غلامی اسی غلامانہ ذہنیت کے باعث مسلط ہوتی جارہی ہے۔ اسلام نے دُنیا کو تمام غلامیوں سے نجات دلائی۔ مسلمان خود غلامی کے شکنجے میں کشاں کشاں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ان حالات میں فکرِ اقبالؒ امت کی رہنمائی کر سکتی ہے۔

عابد ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے