نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے

نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے
زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل
کسی کو راز بتاؤگے مارے جاؤ گے
ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں
شجر کو ہاتھ لگاؤ گے مارے جاؤ گے
جو کاندھے پر ہو وہ گردن اتار لیتا ہے
کسی کو اونچا اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
ہر ایک آئینہ منظر جدا بناتا ہے
نظر کا بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان لکیروں کا
ہوا میں نقش بناؤ گے مارے جاؤ گے
یہ نفسیاتی مریضوں کا شہر ہے قیصرؔ
کوئی سوال اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
زبیر قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے