نظر آتی ہے اب بھی خواب میں

نظر آتی ہے اب بھی خواب میں ، مدھم بہت کم
محبت رہ گئی ہے دل میں لیکن ، کم بہت کم
اداسی تو چھپا لیتے تھے ہم تکیے کے نیچے
خوشی ملتی تو لگتے تھے سبھی عالم بہت کم
کہاں پہلی ملاقاتیں ہوئی تھیں کچھ بتائیں
جگہ موجود ہے، جاتے ہیں اب بھی ہم بہت کم
تمھارے بعد تھا آغاز تخریبی عمل کا
انرجی دے رہے ہیں اب بھی کچھ ایٹم بہت کم
یہ انٹرچینج کم کرتا ہے دل کے فاصلوں کو
بتانا تھا کہ سرگودھا سے ہے سالم بہت کم
فیضان ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے