نذرِ آلام ہوئے جاتے ہیں

نذرِ آلام ہوئے جاتے ہیں
ہم کہ ناکام ہوئے جاتے ہیں
ہَو کے برباد محبّت میں ہم
خوب بدنام ہوئے جاتے ہیں
ہجر تہوار سمجھتے ہیں ہم
اور دشنام ہوئے جاتے ہیں
وہ بہت خاص ہے منواتے ہوئے
ہم بہت عام ہوئے جاتے ہیں
آج کل عشق و محبّت والے
لوگ گم نام ہوئے جاتے ہیں
جام چھلکاتے ہوئے ہم مے خوار
لقمۂِ جام ہوئے جاتے ہیں
ایک آدم سے مولّد ہَو کر
لوگ اقوام ہوئے جاتے ہیں
نام اللہ کا جپتے ہوئے لوگ
دیکھیے رام ہوئے جاتے ہیں
۔۔۔۔۔
کارِ بے کار میں الجھے ہیں سمیرؔ
ہم کم آرام ہوئے جاتے ہیں
سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے