نظم لکھتی ہے تجھے

میں نہیں
یہ نظم لکھتی ہے تجھے
اپنی سطروں میں ترے ہاتھوں کی شمعوں کی نزاکت
صبحِ حرفِ خواب کے رنگوں سے لکھتی ہے
تری ان سبز آنکھوں کے انوکھے زاویوں کو ،جھوٹ سچ کو،جھوٹ سچ اور مصلحت کو اور حسنِ مصلحت کے
راز لکھتی ہے
جانِ جاں یہ میرے لہجے میں
ترے سُرتال لکھتی ہے
مرے دن کی اُداسی ،راستہ تکنے کی عجلت
اور مری آنکھیں جو تیری چمپئی خوشبو کی گرہوں میں بندھی رہتی ہیں
ان کا حال لکھتی ہے
نظم میری ہے مگر دھڑکن کے وقفوں میں
ترے قدموں کی آہٹ اور ترے سب خال و خد
نقطوں،کشوں اور دائروں کے باب میں لکھتی ہے کاغذ کی سفیدی پر ترے ماتھے کی روشن صبحیں
شامیں درج کرتی ہے
کبھی ترے گھنے بالوں سے مضموں باندھتی ہے
اور کبھی تری سلگتی سانس سے مصرع بناتی ہے
کبھی تیرے لہو کی آنچ سے عنواں چراتی ہے
ترے چشم و لب و رُخ کے کنارے
تجھ سے ملنے کے کئی رَستے سجھاتی ہے
کچھ اس انداز سے تجھ کو
مری خاطر
مری یہ نظم لکھتی ہے
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے