نئے دور کی چالبازیاں

نئے دور کی چالبازیاں 

دنیا میں سب زیادہ جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے ’’سوری‘‘۔۔۔ حالانکہ یہ لفظ محاورۃً استعمال ہوتا ہے۔ عملی طور پر نہ کوئی کسی سے ’’سوری‘‘ کرتا ہے نہ ہی آج کے دور میں کوئی کسی کو معاف کرنے کی پوزیشن میں ہے کسی کا دل جلا دو۔۔۔ کسی کو رُلا دو۔۔۔ ’’سوری‘‘ کر لو اور بس۔۔۔ بوسیدہ۔۔۔ زہریلی دوائیاں مریضوں کو کھلا دو اور اُن کو موت کے منہ میں پہنچا دو اور پھر ’’سوری‘‘ کر لو ۔۔۔ بات ختم۔۔۔ یہی نہیں گدھے کا گوشت کھلا دو، کیمیکل ملا دودھ پلا دو۔۔۔ سوری۔۔۔ ویری سوری ۔۔۔
استاد کمر کمانی کہتا ہے کہ ’’سوری‘‘ سے بھی زیادہ جو لفظ دنیا میں مُستعمل ہے وہ ہے ’’حرامی‘‘۔۔۔ لیکن یہ لفظ زیادہ تر انگلش بولنے والے بوزن “BASTARD” بولتے ہیں۔ اوسطاً ہر انگریز نے دوسرے انگریز کو زندگی میں اک بار ضرور ’’حرامی‘‘ کہا ہو گا اور سنا ہو گا۔۔۔ سنا ہے انگریز یہ لفظ سن کر چپ رہتے ہیں۔ بس جواب میں ہماری معروف اداکارہ ’’میرا‘‘ کی طرح۔۔۔ آہستہ سے کہہ ڈالتے ہیں۔۔۔ ’’سیم ٹویو‘‘ Same to You۔۔۔ یہاں اُن کی سیم ٹو یو سے مراد۔۔۔ مثبت۔۔۔ منفی تائثر۔۔۔ ہم اس کام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔۔۔ یعنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دکھ کا یہ ابھی تک ایسا معمہ ہے جو حل نہیں سکا۔۔۔ میرا بھی اُنھیں Bastard کہنے کو دل چاہتا ہے جنہوں نے ہمیں گدھے وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ کا گوشت کھلا ڈالا اور سوری بھی نہیں کیا۔۔۔ ویسے جہاں ضمیر مردہ ہو چکا ہو وہاں Bastard کہہ لیں۔۔۔ ’’حرامی‘‘ کہہ لیں ۔۔۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔کیا گالی اپنے اصل معنوں میں استعمال ہوتی ہے یا محاورۃً۔۔۔ اس بحث کا صدیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔۔۔ سنا ہے انسان گالی اُس وقت نکالتا ہے جب اُس کے پاس دلیل ختم ہو جائے۔۔۔ یا وہ دلیل نہ دینے کی پوزیشن میں ہو۔۔۔ یا پھر ’’موڈ‘‘ میں ہو اور اس کیفیت میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ یعنی ۔۔۔ کہہ دے۔۔۔ ہاں کھلایا ہے گدھے کا گوشت۔۔۔ کر لو جو کرنا۔۔۔
وہ پرانا لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ آپ نے صحیح پہچانہ۔۔۔ وہی طوطے والا جو گزرتے ہوئے ’’ٹام‘‘ کو روزانہ ’’حرامی‘‘ کہہ کر چھیڑتا اور جب ’’ٹام‘‘ سڑک سے پتھر اٹھا کے مارنے لگتا تو وہ ’’حرامی۔ حرامی‘‘ کہتا اڑ جاتا۔ ’’ٹام‘‘ نے جب مالک سے شکایت کی تو اُس نے طوطے کو بہت برا بھلا کہا۔۔۔ اگلے دن جب ’’ٹام‘‘ گزرا تو طوطا چپ رہا۔۔۔ دس قدم جا کے ’’ٹام‘‘ نے واپس مڑ کے دیکھا تو طوطا مسکرا رہا تھا۔۔۔ ’’ٹام‘‘ نے پھر پتھر اٹھا کے طوطے کو مارا۔۔۔ کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ در حقیقت طوطا کیا کہہ چکا ہے۔۔۔ ایسے طوطوں سے اُن لوگوں کا پالا پڑتا ہے جو چھوٹی چھوٹی بات سے چڑتے ہیں۔۔۔ ہائی بلڈ پریشر کے اس دور میں ایسے ’’مریضوں‘‘ کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔۔۔ یقین نہ آئے تو شیشہ دیکھ لیں۔۔۔
ویسے ہر رنگ و نسل کی روایات کی طرح ہر زبان والا اپنی زبان کی لاج رکھتا ہے اور فخر سے خوشی محسوس کرتے ہوئے گالی دینے کے لیے اپنی مادری زبان ہی استعمال کرنا پسند کرتا ہے۔۔۔ عرب دنیا میں تیس پینتیس سال پہلے جانے والے پنجابی۔۔۔ عرب بچوں کو پنجابی گالیاں یہ سوچ کر سکھاتے کہ یہ عرب آپس میں لڑتے ہوئے پنجابی گالیوں کا آزادانہ استعمال کریں گے اور فلاح پائیں گے یا گالی وہ دیں گے مزہ ہم پائیں گے اور پھر آپ کو پتہ ہی ہے ’’چل چھیاں چھیاں چھیاں چھیاں۔۔۔ چل چھیاں چھیاں‘‘ لیکن اُن پاکستانیوں کو دکھ اُس وقت ہوا جب اُن عرب بچوں نے وہ ’’گالیاں‘‘ الٹا اُن پاکستانیوں پر ہی استعمال کرنا شروع کر ڈالیں جنہوں نے وہ گالیاں سکھائی تھیں۔۔۔ یہاں وہ تاریخی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے۔۔۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔۔۔ اور پاکستانیوں نے ڈر کے کہا۔۔۔ میاں اپنی اپنی لڑائیاں لڑو۔۔۔ ہمیں بیچ میں مت ڈالو۔۔۔
انسان گالی کیوں دیتا ہے۔۔۔ جی آپ نے ٹھیک فرمایا یہ اُن انگریزوں سے پوچھنا چاہیے جو ’’حرامی‘‘ کہتے نہیں تھکتے ’’حرامی‘‘ سنتے نہیں تھکتے۔۔۔ میری مراد پھر وہی یعنی “BASTARD” ہے ویسے کسی مصروف چینل کی میزبان کو چاہیے کہ وہ اہم ترین مسئلہ پر روشنی ڈالنے کے لیے دو گھنٹے کا لائیو “Live” پروگرام کر ڈالے۔۔۔ بہتر ہے گدھے کا گوشت کھلانے والوں کو سامنے کھڑا کیا جائے اور عوام کو ’’فری ہینڈ‘‘ دے کر حساب بے باک کرنے کا موقع ملے۔۔۔
استاد کمر کمانی فرماتا ہے کہ گالی صرف وہی نہیں جو پنجابی یا پشتو میں دی جائے۔۔۔ یا ۔۔۔ لی جائے۔۔۔ گالی تو۔۔۔ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دشمن کو کتا نہ کہیں۔۔۔ ’’میر جعفر‘‘ کہہ دیں۔۔۔ ’’میر صادق‘‘ کہہ دیں یا آپ ۔۔۔ کہہ دیں (آپ سمجھ گئے ہیں ناں) مقصد تو انسان کو ’’چوٹ‘‘ لگانا ہے ناں ۔۔۔ پسینو پسین کرنا ہے۔۔۔ وہ چوٹ پنجابی/ پشتو میں دی گئی گالی سے بھی لگ سکتی ہے اور ۔۔۔ ’’میر جعفر۔۔۔ میر صادق‘‘ کہہ ڈالنے سے بھی۔۔۔ دوسری برائیوں کی طرح کچھ اور ایسی ہی برائیاں بھی ہمارے ہاں بڑی تیزی سے سرائیت کر چکی ہیں۔۔۔
میں اکثر غور کرتا ہوں کہ کیا ہم (اگر سر پر آن پڑے)۔۔۔ بغیر گالی نکالے لڑائی مکمل کر سکتے ہیں یا کیا دنگا فساد یا لڑائی بغیر گالیوں کے پایہء تکمیل تک پہنچ سکتی ہے۔۔۔ دل نہیں مانتا کیونکہ جب بھی ہم نے لڑائی ہوتے دیکھی ہے۔۔۔ اندازہ ہوا کہ عام گفتگو جب گالیوں میں منتقل ہوتی ہے تو پھر گندگی سے ہٹ کر لفنگی میں چلی جاتی ہے اور معاملہ گلی سے محلے میں اور محلے سے تھانے منتقل ہو جاتا ہے۔۔۔ وہاں کام گیا تو سمجھو سب گئے کام سے۔۔۔ وہاں تو کچھ ’’ایسے‘‘ بھی بیٹھے ہوتے ہیں جنہوں نے گالیاں نکالنے میں پی۔ایچ۔ڈی کی ہوتی ہے۔۔۔
فہیم انور چغتائی نے اس ’’دنیا کے سب سے اہم ترین معاملہ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔
کہ گالی کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ’’گالی‘‘ کے اندرونی معنی دینے والا جانتا ہے یا لینے والا۔۔۔ ایک بندہ بیک وقت بہت سے لوگوں کو گالیاں دے سکتا ہے۔۔۔ آجکل سب کو گالیاں انفرادی نہیں اجتماعی طور پر دی جا رہی ہیں نہ یقین آئے تو جب ساڑھے آٹھ بجے لوڈ شیڈنگ ہو تو۔۔۔ اپنے کانوں سے سن لیں۔۔۔ جو کچھ لوگ بے چاری ’’واپڈا‘‘ کی شان میں کہتے ہیں۔۔۔ جب بیچ دوپہر ٹرین کا انجن فیل ہو جائے تو کسی جنگل میں ’’ریلوے‘‘ والے بھی گالیاں سمیٹ لیتے ہیں اور ’’پولیس‘‘ ۔۔۔ توبہ توبہ بہتر ہے آپ مجھ سے اس وقت زیادہ ’’فری‘‘ نہ ہوں۔۔۔ ’’پولیس‘‘ جانے یا عوام جانیں۔۔۔ ابھی تو ہم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی طرف نہیں جا رہے۔۔۔ وہاں تو کئی کئی بار محض گالی کی وجہ سے کارروائیاں حذف کرنا پڑیں۔۔۔ پتہ چلتا ہے کہ عورت مرد اکثریت پارلیمنٹ میں من مرضی کی گالی بول سکتے ہیں۔۔۔ بیان کر کے داد سمیٹ سکتے ہیں۔۔۔ بس مشکل یہ ہے کہ اُس فری سٹائل گفتگو کی ریکارڈنگ عوام کو نہیں سنوائی جا سکتی ۔۔۔
پہلی گالی کس نے کس کو دی۔۔۔ کب دی اور کیوں دی۔۔۔ ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔ یہ تاریخ میں کوئی نہیں بتا پائے گا۔۔۔ ’’گوگل‘‘ پر ’’سرچ‘‘ کر کے دیکھتا ہوں ۔۔۔ اگر کوئی نتیجہ سامنے آیا تو آپ کو بتاؤں گا۔۔۔؟؟

حافظ مظفر محسن

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے