نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں

نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں
زمیں پر ہم وحیداؔحمد سے نظمیں سُن رہے ہیں

تجھے کس بات کی جلدی ہے اے خوشبو کے جھونکے
ابھی تو ہم ترے رستے سے کانٹے چُن رہے ہیں

یہ میرے زخم جِن پر اپنے لَب رکھے ہیں تو نے
ہمیشہ سے یہاں پر وقت کے نَاخُن رہے ہیں

میں پھولوں سے تِرے بارے میں باتیں کر رہا ہوں
پرندے میری باتیں مُسکرا کر سُن رہے ہیں

دکھائیں تو کسے اس جمگھٹے میں سعد ضؔیغم
ہم اپنے دل میں جو خوابوں سے دنیا بُن رہے ہیں

سعد ضؔیغم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے