نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں

نصیب عشق دل بے قرار بھی تو نہیں

بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں

تلافیٔ ستم روزگار کون کرے

تو ہم سخن بھی نہیں راز دار بھی تو نہیں

زمانہ پرسش غم بھی کرے تو کیا حاصل

کہ تیرا غم غم لیل و نہار بھی تو نہیں

تری نگاہ تغافل کو کون سمجھائے

کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں

تو ہی بتا کہ تری خامشی کو کیا سمجھوں

تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں

وفا نہیں نہ سہی رسم و راہ کیا کم ہے

تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں

اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست

مگر چراغ سر رہ گزار بھی تو نہیں

بہت فسردہ ہے دل کون اس کو بہلائے

اداس بھی تو نہیں بے قرار بھی تو نہیں

تو ہی بتا ترے بے خانماں کدھر جائیں

کہ راہ میں شجر سایہ دار بھی تو نہیں

فلک نے پھینک دیا برگ گل کی چھاؤں سے دور

وہاں پڑے ہیں جہاں خار زار بھی تو نہیں

جو زندگی ہے تو بس تیرے درد مندوں کی

یہ جبر بھی تو نہیں اختیار بھی تو نہیں

وفا ذریعۂ اظہار غم سہی ناصرؔ

یہ کاروبار کوئی کاروبار بھی تو نہیں

ناصر کاظمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے