ناریل کا پیڑ

ناریل کا پیڑ
ساحل کے پاس تنہا
اک پیڑ ناریل کا
اک خواب ڈھونڈھتا ہے
یادوں میں بھیگا بھیگا
آنچل سے نیلے تن میں، آکاش جیسے پیاسے
سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے خالی پڑے ہیں کاسے
وہ ریت بھی نہیں ہے
جس پر لکھا تھا تم نے
ساگر سکوت میں ہے
لہریں بھی سو رہی ہیں
اک قاش، بے دلی سے بس چاند کی پڑی ہے
کومل سی یاد کوئی
تنہا جہاں کھڑی ہے
اُس ناریل کے نیچے ۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے