نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں

نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
دل پہ لکھے نامو ں کو بھول بھول جاتی ہوں
بھیجنے کسی کو ہو ں پھول ، کارڈ، تصویریں
میں ضروری کاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
روشنی ہو ، رعنائی، رنگ ہو کہ خوشبو ہو
سب حسیں مقاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
صاف استعاروں کو، مستند اشاروں کو
پیار کے سلاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
سیب اور چیری تو روز لے کے آتی ہوں
اپنے سندھڑی آموں کو بھول بھول جاتی ہوں
دل کے راستے آ کر بس گئے ہیں نیناں میں
اَن گِنت پیاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے