ناقد اعظم

ناقد اعظم
کسی مشاعرے کے بعد ایک بڑا استاد
سنا رہا تھا کچھ اس طرح بزم کی روداد
عجب مشاعرہ تھا یہ عجیب شاعر تھے
کہ جس کے دل میں جو آتا تھا بک رہا تھا وہاں
غلط کلام کا پکوان پک رہا تھا وہاں
مشاعرے میں کسی نے یہ شعر فرمایا
’’ جسے بھی اب نگہ یار انتخاب کرے
گل مراد بھرے ہیں سبھی کے دامن میں ‘‘
’’ گل مراد ‘‘ یہاں کتنا نا مناسب ہے
’’ گل مراد ‘‘ کوئی پھول ہی نہیں ہوتا
بجائے اس کے کوئی اور پھول لکھ دیتے
کہ جیسے بیلا، چنبیلی، گلاب یا گوبھی ‘‘
اک اور شاعر نو مشق نے یہ شعر پڑھا
’’کچھ اور کاتب قسمت نے غم لکھے ہوتے
جگہ تو تھی میری بدقسمتی کے دامن میں ‘‘
یہ شعر جس نے کہا ہے وہ شخص جھوٹا ہے
نہ جانے چاہتا کیا ہے یہ بوالہوس شاعر
اگر یہ شعر کہیں سن لے کاتب تقدیر
کچھ اور غم بھی اگر بخش دے وہ شاعر کو
تو بھاگتا نظر آئے گا کون؟ یہ شاعر
کہے گا کاتب قسمت سے سنئے تو بھائی
جو شعر میں نے کہا وہ تو اک فسانہ تھا
مشاعرے میں چہکنے کا اک بہانہ تھا
خدا کے واسطے اب غم ری فنڈ کر لیجئے
میں کینسل کئے دیتا ہوں شعر ہذا کو
کسی مشاعرے میں اب نہیں پڑھوں گا یہ شعر
اک اور شاعر کم فہم نے یہ شعر پڑھا
’’ میرے خیال میں وہ اس طرح ہیں جلوہ فگن
کہ جیسے تاج محل چاندنی کے دامن میں ‘‘
’’ میرے خیال میں وہ اس طرح ہیں جلوہ فگن ‘‘
سوال یہ ہے یہاں ’’ وہ ‘‘ سے کیا عبارت ہے!
بجائے ’’ وہ ‘‘ کے اگر ’’ وہ ‘‘ کا نام آ جاتا
تو اہل ذوق کو لطف کلام آ جاتا
اسی غزل میں کہیں ایک شعر یہ بھی تھا
’’ تلاش قاتل انسانیت میں نکلے تھے
نشاں لہو کے ملے آدمی کے دامن میں ‘‘
’’ تلاش قاتل انسانیت میں نکلے تھے ‘‘
میری سمجھ میں نہیں آیا کون نکلے تھے ‘‘
برات والے، پولیس والے، یا چمن والے
مرے خیال سے یہ شعر یوں کہا جاتا
جناب ایس پی شہر کی قیادت میں
پئے حراست ملزم لیے ہوئے وارنٹ
پولیس کے چند سپاہی بدل کے شہری بھیس
تلاش قاتل انسانیت میں نکلے تھے
نشاں لہو کے ملے آدمی کے دامن میں
اور آدمی پہ چلا کیس قتل آدم کا
اور آدمی کو سزا ہو گئی عدالت سے ‘‘
اک اور شاعر ناداں نے یہ بھی فرمایا
’’ کہو تو نذر کروں دل کے چند ٹکڑے ہیں
یہ پھول مل نہ سکیں گے کسی کے دامن میں ‘‘
کہو تو نذر کروں کس سے کہہ رہا ہے پوئٹ
بہن سے، باپ سے، استاد سے کہ بیوی سے؟
کہو تو نذر کروں؟ یہ بھی کوئی بات ہوئی
جو نذر کرنا ہی ٹھہرا تو پوچھنا کیسا؟
جو پیش کرنا ہے تحفہ تو پھر اجازت کیا
یہ بات ایسی ہے جیسے کوئی یہ پوچھے
کہو تو تم کو کھلا دوں ذرا سا حلوہ ہے؟
’’ کہو تو نذر کروں ‘‘ سن کے کون کہہ دے گا
کہ تم وہ ٹکڑے وہ کٹ پیس میری نذر کرو
کہو تو نذر کروں، کہنے کا یہ مطلب ہے
کہ نذر وزر تو کچھ بھی نہیں کرے گا یہ شخص
یہ شعر سونگھ کے دیکھا تو آئی بوئے دروغ
یہ شاعری ہے تو بس ہو چکا ادب کو فروغ
اسی غزل میں کہیں ایک شعر یہ بھی تھا
’’ اب آپ اس کو گریباں سمجھئے یا دامن
ملا لیا ہے گریباں کو سی کے دامن میں ‘‘
یہ شعر بخیہ گری کا حسیں نمونہ ہے
یہ آرٹ وہ ہے جسے تم سمجھ نہیں سکتے
اگر جناب سمجھنا ہی چاہتے ہیں یہ شعر
علیؔ حسین سے، لڈن سے مشورہ کیجئے
وہی بتائیں گے اس شعر میں کہا کیا ہے
یہ فلسفی ہی سے پوچھو کہ فلسفہ کیا ہے
جب اس طرح کے بھی نقاد ہوں ادبیوں میں
شمار کیوں نہ ہو شاعر کا بدنصیبوں میں
دلاور فگار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے