ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

تازہ ترین نظم پیش خدمت ہے۔ نظم کا عنوان خدائے سخن حضرت میر تقی میر کے گلستان سخن سے چننے کی سعادت حاصل کی ہے۔
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
ملاحظہ فرمائیے:
تہمت ہے مختاری کی
تنہائی کی گہما گہمی میں رہتا ہے
باپ
نہ جانے کس خوش فہمی میں رہتا ہے
کون سے زعم پہ اتراتا ہے۔
جانے کون سے ٹھنڈے میٹھے
جھلمل جھلمل
خواب سراب کا پانی پی کر اپنی پیاس کو بہلاتا ہے۔
باپ تو بس
سینہ ہے ۔۔۔۔ سینہ
تیر کماں کے ہوتے ہیں
بچے ماں کے ہوتے ہیں۔
تیر
یہ کیسا تیر کہ جس کا چیر نظر سے اوجھل ہے۔
تیر ترازو ہوتا ہے
پر زخم پرندے کی صورت اڑ جاتا ہے۔
تن میں چھید نہیں ہوتا ہے
رخنے جاں کے ہوتے ہیں
بچے ماں کے ہوتے ہیں۔
کیا حنجرے کا گونج بھرا سارنگ آواز بناتا ہے؟
کیا حلقوم سے گھوم گھوم کر بات برآمد ہوتی ہے؟
پورے جسم کی چیخ سنائی دیتی ہے؟
کہاں سنائی دیتی ہے!!
جسم تو سارا گونگا ہے
سب حرف زباں کے ہوتے ہیں
بچے ماں کے ہوتے ہیں۔
بارش بدلی کی ہوتی ہے
اور بجلی بھی بدلی کی
سیدھی بدلی کی ہوتی ہے اور ترچھی بھی بدلی کی
بدلی بوچھاڑوں کے رخ کا آپ تعین کرتی ہے
اس کے ہاتھ میں ہوا کا چابک ہوتا ہے۔
اس کے اوپر
تاروں کی بکل مارے جو پیر فلک ہے
برجوں والے شیش محل سے ٹیک لگائے
سورج سورج آگ جلائے
کون و مکاں کی راس رچائے
تنہائی کی گہما گہمی میں رہتا ہے
کس خوش فہمی میں رہتا ہے!!
کون سے زعم پہ اتراتا ہے؟؟
کیا اس کو معلوم نہیں ہے "کون” کہاں کے ہوتے ہیں؟؟!!
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے