ناگزیر

” ناگزیر”
جونک بن کے خرابے میں
خواہش کے جوہڑ میں اتری ہوئی
ایک ہرنی سے لپٹے ہوئے خون پیتا رہوں
ہاں وہی ہرنی جو سبز رت میں فراوانئ رزق سے
ڈنٹھلوں میں اترتی خماری سے مدہوش ہوتی رہی ہو
اور اپنی طبیعت کے افتاد سےتھوڑی فربہ بھی ہو
رنگ بھرتا رہوں کاسنی گیروی زرد یا احمریں
کینوس پہ بکھرتی تھرکتی ہوئی ایک تصویر میں
جو مسلسل نگاہی سے دشوار ہو
یعنی میری توجہ کے بھاری ہتھوڑوں سے بیزار ہو
پھر وہ بانہیں نکالے مجھے بھینچ لے
تیز رندے کی صورت کترنے لگے
ہاتھ کی انگلیاں آنکھ کی پتلیاں
میں برادہ برادہ بکھرنے لگوں استعارہ بنوں
اور تخیل کے جوہڑ سے نکلی ہوئی ایک انجان
ہرنی کا چارہ بنوں
جو مجھے پوری رغبت سے چرنے لگے
اپنی امید کا پیٹ بھرنے لگے
ذوالقرنین حسنی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے