نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے

پاکستانی سیاسی تاریخ کے اہم ترین دن کا آغاز ملک کے وزیراعظم نے کتوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے جبکہ دن کا اختتام عوام نے شدید سردی اورکرونا کے خوف کی موجودگی میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں گریٹر اقبال پارک میں، جہاں مینار پاکستان کے سوا کسی اور چیز کا سایہ موجود نہیں تھا، کھلے آسماں کے نیچے ٹھٹھرتے ہوئے کیا۔ سردی ایسی تھی جس میں فر کا گرم کوٹ پہنی ہوئی مریم کی بھی قلفی جم گئی۔ سیاست میں بندوقوں اور لاٹھی گولی سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ یہ الفاظ اور جذبات کی جنگ ہوتی ہے۔ اس میں عوام کے دلوں کی ترجمانی کرنا ہوتی ہے، ان کی خواہشات کو زبان دی جاتی ہے اور ان کے مصائب کا حل تلاش کیا جاتا ہے ۔ اس میدان میں رویے، الفاظ، ان کی ادائیگی اور نفسیاتی حملے ہی مخالفین کی شکست اور فتح کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ صبح صبح غریب ملک کے وزیراعظم نے، وہ ملک جہاں پچھلے دو سال میں روٹی کی قیمت پانچ روپے سے بڑھ کر تیس روپے ہو گئی ہے، کتوں کو کھانا کھلانے کی تصویر ٹویٹر پر شیئر کر کے یہ تاثر دیا کہ وہ چھٹی کے دن بنی گالا محل میں بیٹھے چین کی بنسی بجا رہے ہیں۔

ایک دن پہلے ہی انہوں نے قوم کا مژدہ سنایا تھا کہ میں چینی کی قیمت 81 روپے پر واپس لے آیا ہوں۔ (جو پچھلے دو ماہ کی قیمت سے 23 روپے کم ہے لیکن پچھلے سال سے تیس روپے زیادہ ہے۔ عوام اس پر بھی خوش ہو جاتے اگر کہیں اس قیمت پر مل رہی ہوتی۔) اب وہ بتا رہے تھے کہ انہیں اپوزیشن کی کسی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں۔

عمران خاں کی یہ ٹویٹ دراصل سیاسی کشمکش کے دوران مخالفین پر ایک نفسیاتی حملہ تھا۔ سیاست میں سائیکولاجیکل وارفئیر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اصطلاح کسی بھی ایسی حرکت کی نشان دہی کرتی ہے جو بنیادی طور پر دوسرے لوگوں میں اپنی پسند کے مطابق ردعمل پیدا کرے۔ اس کا مقصد مخالفین کے حوصلے پست کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ ہم بہت مضبوط ہیں اور ہمیں مخالف کی کوئی پرواہ نہیں۔ تمام سیاست دان اور ریاستیں پراپیگنڈا کے ذریعے خود کو بڑا، طاقتور، اہم اور حق پر ثابت کرنے کے لئے بھی اسی کا سہارا لیتی ہیں۔ اپوزیشن بھی ایسے حربے استعمال کرتی رہی ہے۔ ایسی تمام حرکتیں عوام پراثرانداز ہوتی ہیں۔ نتیجہ مثبت یا منفی، یہ وقت بتاتا ہے۔

اپوزیشن کا موقف ان کو بہتر پوزیشن مہیا کر رہا ہے۔ ان کا بیانیہ کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے، تمام ادارے اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کریں، پوری قوم کے لئے غیر متنازع ہے۔ اپوزیشن کی دو جماعتوں کی کمزوری، ان کا ماضی ہے۔ لیکن جس قوت کو وہ چیلنج کر رہے ہیں ان کا ماضی بھی تابناک نہیں۔ وزیراعظم اگرچہ صادق وامین کا لقب اعلیٰ عدلیہ سے لے کر آئے ہیں لیکن ہماری عدلیہ تو خود نظریہ ضرورت کے تحت ناجائز کو جائز قرار دینے کی اقراری ہے۔

وقت نے ثابت کیا ہے کہ خود ان کے ہاتھ بھی صاف نہیں۔ غیرملکی فنڈنگ کیس اور جج ارشد ملک کا بیان اپوزیشن کو سہارا دے رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ کشمیر، شہدا اوردامن کی پاکی کی دعویداررہی ہے۔ اب ان دو برسوں میں جب اپوزیشن کو نواز شریف کی زبان ملی ہے تو بہت سے داغ دھبے اس خاکی دامن پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ڈھاکہ اورسیاچین کی طرح ان کے اپنے (سلیکٹڈ کے ) دور میں ہی انڈیا کی جھولی میں گر گیا ہے۔

گوجرانوالہ جلسہ میں بلاول بھٹو کی تقریر عوامی جذبات کی نمائندہ تھی۔ وسطی پنجاب سے پیپلز پارٹی کب کی رخصت ہو چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب لاہور، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کے اضلاع پنجاب کے لاڑکانہ تھے۔ بلاول نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے عظیم لیڈر بھٹو کے ساتھ خودسوزی کرنے والے جیالوں اور شہدا کانام لے کر جمہوریت کو مادر وطن میں یکجہتی اورترقی کی سب سے بڑی علامت قرار دیا۔ اس ابھرتے ہوئے لیڈر نے بی بی کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے پنجاب میں پارٹی کی مقبولیت کی ٹوٹی ہوئی کمند کو دوبارہ جوڑ کر مملکت کے مخالفین کو ’پاکستان کھپے‘ کی یاد دہانی کروائی۔

سیاسی وارفئیر میں دوسرا بہت بڑا وار کراچی میں ہوا جب بلاول کو دعوت خطاب جمہوریت کے ایک اور جیالے کی قبر سے اٹھنے والی آواز نے دی۔ تقریر کے دوران پیپلز پارٹی کے سافٹ امیج کو واضح کرنے والی جیالوں کی بیٹیاں اور بہنیں اس کے اردگرد حصار بنائے کھڑی تھیں۔ کراچی میں ہی بلاول بھٹو نے وہ پریس کانفرنس کر دی جو کہ مصلحتوں کی ماری وزیراعظم بینظیر بھٹو اپنے دور میں ریاستی جبر کے شکار مرتضیٰ بھٹؤ کے قتل پر نہ کر سکی تھی۔ اب کی بار بلاول نے آئی جی کے اغوا کاروں کا نام پوچھ کر اپنے ماموں کی قبر پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کر دیا اور ریاست کے اوپر ایک اور ریاست کا ثبوت عوام کے سامنے رکھ دیا۔

کوئٹہ میں نفسیاتی محاذ پر مریم نواز سبقت لے گئی۔ پچھلے دورے پر تحفے میں ملا ہوا بلوچی سوٹ زیب تن کیا۔ لاپتا ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کی۔ اس کی بیٹی کو سٹیج پر اپنے ساتھ جگہ دی اورتقریر میں اس کا ذکر کر کے اس درد کو پورے ملک میں پہنچا دیا۔ یہ وہی درد ہے جو ماما قدیر بوڑھے تن پر اوڑھ کر نکلا۔ اس پیدل لانگ مارچ میں بھی اس کو پنجابیوں کے قریب نہ آنے دیا گیا۔ اب یہ آواز مریم کی بدولت گھر گھر پہنچ گئی۔

لاہور میں اختر مینگل اور محمود اچکزئی کی تقاریر سائیکولوجیکل وار میں اپوزیشن کا دھماکہ تھیں۔ وہ لوگ، پارٹیاں اور اقوام جن کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ ملک دشمن اور غدار قرار دیتی رہی ہے وہ سب پنجاب کے دل میں مینار پاکستان کے نیچے ہلکے پھلکے الفاظ میں شکوہ کناں ہو کر ملک کو آئین کے مطابق چلانے کی بھیک مانگ رہے تھے۔

اس لڑائی میں وزیراعظم صاحب بالکل غیر متعلق نظر آ رہے ہیں۔ شاید اسی لئے انہوں نے اس سرد دن کا آغاز کتوں کے ساتھ کھیل کر کیا۔ نفسیاتی محاذ پر اسٹیبلشمنٹ اور ان کی نمائندہ یہ حکومت اپوزیشن سے مات کھا رہی ہے۔ جہاں بھوک اور روٹی کا ذکر ہو گا، جہاں چینی اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر ہوگا، جہاں پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں گی اور جہاں لاپتا افراد کے اہل خانہ کے نوحے گونج رہے ہوں گے، جہاں ان کی سہاگنوں کی سولی پر لٹکی ہوئی بنجر راتوں کا ذکر ہوگا، جہاں شہدا کی بیواؤں، بیٹیوں اور بہنوں کے دکھوں کا ذکر ہو گا، وہاں وزیراعظم کے ایسے نفسیاتی وارعوام کے غم و غصے کو مزید بھڑکائیں گے۔

سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے