نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں

نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں
میں اپنی ذات تری ذات سے نکالتا ہوں
کشید کرتا ہوں میں دن کی آگ سے ٹھنڈک
اور اپنی دھوپ کہیں رات سے نکالتا ہوں
تو ایک رخ پہ ہے محو کلام لیکن میں
کئی معانی تری بات سے نکالتا ہوں
دعا کے ہالے بنا کر ترے جمال کے گرد
تجھے میں گردش و آفات سے نکالتا ہوں
مرا کمال میں اپنی بلندیاں شہزادؔ
حقیر و پست مقامات سے نکالتا ہوں
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے