نئے دیوتا

نئے دیوتا
گاجر کے گرم حلوے کی خوشبو سے سارا کمرہ مہک اٹھا تھا اور اگر کسی دعوت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہر کھانا نہایت سلیقے سے تیار کیا جائے اور معمولی معمولی چیزمیں بھی ایک نیا ہی ذائقہ پیدا کردیا جائے تو بلاشبہ دہلی کی وہ دعوت مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔
اتنی بھی کیا خوشی ہے، میں سوچ رہا تھا ، اتنا تو نفاست حسن پہلے بھی کما لیتا ہوگا۔ ڈیڑھ سو روپے کے لیے اس نے اپنی آزادی بیچ دی اور اب خوش ہورہا ہے۔ وہ تو شروع سے باغیانہ طبیعت کا آدمی مشہور ہے، اس کے افسانے ترقی پسند ادب میں نمایاں جگہ پاتے رہے ہیں۔ پھر یہ نوکری اس نے کیسے کرلی؟ غریبوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں، زندگی کی ہتک کی جاتی ہے، سرمایہ دارانہ نظام مکڑی کی طرح برابر اپنا جالا بُنتا رہتا ہے اور غریب کسان مزدور آپ سے آپ اس جالے میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔۔۔ ان خیالات کا مالک آج خود مکھی کی طرح اس جالے میں پھنس گیا اور اِس خوشی میں یاروں دوستوں کی دعوت دے رہا ہے! مگر میں نے اپنے خیالات کا اثر چہرے پر ظاہر نہ ہونے دیا۔
دعوت میں کئی ادیب شریک تھے۔ میں سوچنے لگا۔ ہندوستان کی آزادی کے متعلق اِن ہیٹ پہننے والے ادیبوں سے زیادہ مدد کی امید نہ رکھنی چاہیے اور براؤ ننگ کا خیال۔۔۔ ’’چند چاندی کے سکّوں کے عوض وہ ہمیں چھوڑ گیا۔۔۔!‘‘ میرے ذہن میں پھیلتا چلا گیا۔ ان رجعت پسندوں کو یہ گمان کیسے ہوگیا کہ وہ ترقی پسند ادب کا چرچا کرکے سننے والوں کی آنکھوں میں دھول ڈال سکتے ہیں؟ کہاں ترقی اور آزادی کا حقیقی نصب العین اور کہاں یہ چاندی کی غلامی! نفاست حسن کے گورے چہرے پر ہنسی ناچ رہی تھی۔ سچ پوچھو تو یہ ہنسی مجھے بڑی بھیانک دکھائی دیتی تھی۔
گاجر کا حلوا سچ مچ تھا بہت لذیذ اور وہ میرے خیالات پر حاوی ہورہا تھا۔۔۔ مقناطیس اتنا قریب ہو اور لوہ چون کے ذرّے کھنچے نہ چلے آئیں! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر یہ حلوا نہ ہوتا تو میں نفاست حسن کو اور بھی زیادہ تنقیدی زاویے سے دیکھتا ہوتا۔
بہتوں کے ناموں سے میں ناآشنا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ کئی چہرے میرے لیے نئے نہ تھے۔ خاص کر مولانا نورحسن آرزوکو تو اس سے پہلے کبھی فوٹومیں بھی نہ دیکھا تھا۔ اُن کی آواز مجھے بہت پیاری لگی۔ بہت جلد میں نے ان کی فصاحت کا لوہا مان لیا۔ یہ محسوس ہوتے بھی دیر نہ لگی کہ انھیں ایسی ایسی دلیلوں پر عبور حاصل ہے کہ موقع پڑنے پر وہ اپنے حریف کو گھاس کے تنکے کی طرح اپنی راہ سے اڑا دیں۔ عمر میں وہ کوئی بوڑھے نہ تھے، ادھیڑ ہی تھے۔ مگر نئے زمانے سے اتنا ہی رشتہ رکھتے تھے کہ سرکاری نوکری کی وجہ سے پاجامے اور شیروانی کو خیرباد کہہ کر انگریزی وضع کا سوٹ پہننا شروع کر دیا تھا۔
برف میں لگی ہوئی گنڈیریوں کے ڈھیر پر سب ادیب دوست بڑھ بڑھ کر ہاتھ مار رہے تھے۔ جونہی گنڈیری کا گلاب میں بسا ہوا رس حلق سے نیچے اُترتا مولانا آرزوکی آنکھوں میں ایک نئی ہی چمک آجاتی۔
نفاست حسن کہہ رہا تھا۔ ’’یہ گنڈیریاں تو خاص طور پر مولانا کے لیے منگوائی گئی ہیں۔‘‘
’’خوب‘‘ مولانا بولے ’’اور گاجر کا حلوا بھی شاید میرے ہی لیے بنوایاگیا تھا۔۔۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
نفاست حسن کی بیباک نگاہیں مولانا کی شوخ آنکھوں میں گڑ کر رہ گئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اسے اپنے محکمے میں نوکری دلانے میں مولانا کا بہت ہاتھ تھا۔ مگر خود نفاست حسن ایسا آدمی نہ تھا کہ احسان مندی کو تصور میں بھی لاسکے۔ اس کا خیال تھا کہ خود وقت کی کروٹ کی بدولت ہی وہ یہ نوکری حاصل کرسکا ہے، اور گاجر کا لذیذ حلوا اور گلاب میں بسی ہوئی گنڈیریاں کسی مولانا کا احسان اُتارنے کے خیال سے ہرگز پیش نہیں کی گئیں۔
مولانا ادھر بہت موٹے ہوگئے تھے اور وہ حیران تھے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے شہر میں لگاتار کئی سال گزارنے کے باوجود نفاست حسن نے اپنی بیٹھک میں ایک آدھ بڑی کرسی رکھنے کی ضرورت کیوں نہ محسوس کی تھی۔ ابھی تک بڑھئیوں نے بڑی کرسیاں بنانا بالکل ترک تو نہیں کیا۔ یہ اور بات ہے کہ نئے زمانے میں اب لوگ کبھی اتنے موٹے نہ ہوا کریں گے! اپنی گول گول گھومتی ہوئی آنکھیں انھوں نے میری طرف پھیریں اور میں نے دیکھا کہ ان میں غرور اور غم گلے مل رہے ہیں اور وہ بیتے وقتوں کو پھر سے واپس آتا دیکھنے کے لیے بے قرار ہورہے ہیں۔
دھیرے دھیرے محفل چھدری ہوتی گئی۔ نئے دوست یہ خیال لے کر لوٹے کہ نفاست حسن ایک نشاط پسند اور دوست نواز آدمی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ رسمی تکلفات کا کوئی بڑا حامی نہیں ہے۔ ہے بھی ٹھیک۔ دوستی ہونی چاہیے آزاد نظم سی۔۔۔قافیہ اور ردیف کی قید سے آزاد۔
مولانا برابر جمے ہوئے تھے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر بولے، ’’صاحب، سومرسٹ مام کا مطالعہ کیا ہے آپ نے؟‘‘
انھوں نے یہ بات اس لہجے میں پوچھی تھی کہ مجھے گول مول جواب پر اترنا پڑا۔ ’’صاحب، کہاں تک مطالعہ کیا جائے؟ ان گنت کتابیں ہیں اور ان گنت مصنّف۔ اب میں سومرسٹ مام کا خیال رکھوں گا۔‘‘
’’تو یہ کہیے نا کہ آپ نے سومرسٹ مام کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔‘‘
اب میں سمجھا کہ سومرسٹ مام کوئی مصنف ہیں۔ میں نے جھینپتے ہوئے جواب دیا ۔ ’’جی ہاں، یہی سمجھ لیجیے۔‘‘
’’تو اس کا یہی مطلب ہوا نا کہ اب تک آپ نے یونہی عمر ضائع کی۔‘‘
اِس پر نفاست حسن بگڑ اُٹھا۔ گرماگرم بحث چھڑ گئی۔ پتہ چلا کہ مولانا نے نفاست حسن کو چڑانے کے لیے ہی سومرسٹ مام کا تذکرہ کیا تھا۔ ایک دن خود نفاست حسن نے یہی سوال مولانا سے کیا تھا، اور جب اُنھوں نے میری طرح بات ٹالنی چاہی تو وہ کہہ اٹھاتھا ’’تو اس کا یہی مطلب ہوا نا کہ اب تک آپ نے یوں ہی عمر ضائع کی۔‘‘
ادھر مولانا نے انگریزی ادب سے ربط بڑھانا شروع کررکھا تھا مگر نفاست حسن بدستور یہی سمجھتا تھا کہ یہ صرف ایک دکھاوا ہے اور انگریزی ادب کے نئے رجحانوں سے انھیں کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ جب بھی وہ ان کے ہاتھ میں کوئی انگریزی کتاب دیکھتا، اس کے ذہن میں طنز جاگ اُٹھتی، جیسے سانپ کے سر میں زہر جاگ اٹھتا ہے۔ اِس دکھاوے کی آخر کیا ضرورت ہے۔۔۔؟ بیہودہ دکھاوا۔۔۔! نیا رنگ تو سفید کپڑے ہی پر ٹھیک چڑھتا ہے!
مولانا بڑی سادہ اور پراثر زبان میں شعر کہتے تھے۔ مضامین بھی لکھتے تھے۔ افسانہ نگاری کے باب میں انھوں نے کوئی کوشش نہ کی تھی۔ ہاں جب کوئی واقعہ سناتے تو یہی گمان ہوتا کہ کوئی کہانی جنم لے رہی ہے، اور اگر اس وقت کوئی آدمی ان کی تعریف کردیتا تو خواہ مخواہ ان کی نگاہ میں بہت اونچا اُٹھ جاتا۔ داد پاکر ہی وہ داد دے سکتے ہوں، یہ بات نہ تھی۔ اکثر وہ کسی ایسے معاوضے کے بغیر بھی نوجوان ادیبوں کی پیٹھ ٹھونکتے رہتے تھے۔ ان کی یہ سرپرستانہ طبیعت ہی نفاست حسن کے نزدیک وہ عیب تھا جس کی وجہ سے جیسا کہ اُس کا خیال تھا نہ وہ پرانے دور کی نمایندگی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور نہ نئے دور ہی سے رشتہ جوڑ سکے تھے۔
جب بھی نفاست حسن مولانا کے خلاف بس اگلتا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا کہ ادب کا نیا دور اپنے سے پہلے دور کی ہتک کررہا ہے۔ یہ تو اپنی ہی ہتک ہے۔ سطحی طور پر اس کا گھناؤناپن آنکھ سے کتنا ہی اوجھل رہے مگر جب یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ادب ایک ارتقائی چیز ہے تو کوئی بھی ادیب اپنا یہ وطیرہ جاری نہیں رکھ سکتا۔
ہاں، تو سومرسٹ مام والا مذاق نفاست حسن نہ سہارسکا۔ بولا ’’بس بس چپ رہیے۔ اتنی زبان مت کھولیے۔‘‘
نفاست حسن کی زبان پر رندہ چلنے کا گمان ہوتا تھا۔ مولانا نے قدرے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور بولے ’’اتنے گرم کیوں ہوتے ہو، میاں! عمر ہی میں سہی، میں تمھارے والد کے برابر ہوں۔‘‘
’’بس بس، یہ شفقت اپنے ہی پاس رکھیے۔ مجھے نہیں چاہیے یہ کمینی شفقت۔۔۔ یہ سرپرستانہ شفقت۔۔۔ بڑے آئے ہیں میرے والد۔۔۔ والد! اتنی زبان درازی!‘‘
مولانا نے اب تک یہی سمجھا تھا کہ وہ مذاق ہی کی سرحد پر کھڑے ہیں۔ معاملہ تو دوسرا ہی رنگ اختیار کرچکا تھا۔ اُن کے چہرے پر غصّے کی تہ چڑھ گئی۔ بولے’’ایک سسرے سومرسٹ مام کی خاطر کیوں میری ہتک کرنے پر تلے ہو، میاں۔۔۔؟ کم بخت سومرسٹ مام۔۔۔!‘‘
بات تو تو میں میں کی شکل اختیار کر گئی۔ مجھے تو یہی خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں دونوں ادیب ہاتھا پائی پر نہ اُتر آئیں۔
نفاست حسن اس دن میزبان تھا اور گھر پر آئے ہوئے کسی مہمان کی شان میں ہر طرح کی زبان درازی سے اسے پرہیز کرنا چاہیے تھا اور پھر یہ مہمان کوئی معمولی آدمی نہ تھا۔ اُس کا ہم عصر ادیب تھا۔ عمر میں اس سے بڑا اور زبان دانی میں کہیں بڑھ کر۔ میں سوچنے لگا کہ سومرسٹ مام پر نفاست حسن اتنا کیوں فدا ہے؟ وہ بھی مولانا کی طرح ایک آدمی ہی تو ہے، کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ اور میں تو سمجھتا ہوں ہر لحاظ سے نفاست حسن کے کمرے میں پڑی ہوئی کسی بھی ہلکے بھورے رنگ کی کرسی سے مولانا زیادہ قیمتی تھے۔ نفاست حسن اتنا گرم کیوں ہوگیا تھا؟ وہ شاید اپنے مہمان کوکرسی سے اٹھا دینا چاہتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ مولانا کی طنز ذرا تیکھی تھی مگر تھی تو آخر یہ طنز ہی۔ اور اس کا جواب اگر طنز ہی سے دیا جاتا تو اِس قدر دلخراش مظاہرہ تو نہ ہوا ہوتا۔
سومرسٹ مام آخر کیا لکھتا ہوگا؟ کیا اسے اپنے وطن انگلستان میں بھی نفاست حسن جیسا کوئی عاشق زار نصیب ہوا ہوگا؟ مجھے یہ شک گزرا کہ نفاست حسن کے بہت سے جملے جنھیں وہ موقع بے موقع نہایت شان سے اپنی گفتگو اور تحریر میں نگینوں کی طرح جڑنے میں ہوشیار سنار بن چکا ہے، ضرور ولایت کی کسی فیکٹری سے بن کر آئے ہیں، اس کی اپنی تخلیق ہرگز نہیں۔ میں سوچنے لگا کہ پہلے پہل کب سومرسٹ مام کے قلم نے اس پر جادو سا کردیاتھا اور کیا یہ جادو کبھی ختم بھی ہوجائے گا؟
ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا۔ ’’عورت کس وقت سندر لگتی ہے؟‘‘
مجھے کوئی جواب نہ سوجھا۔ میں نے کہا ’’آپ ہی بتلائیے۔‘‘
وہ بولا ’’ہاں تو سنو۔۔۔ جب وہ تین دن سے بخار میں مبتلا ہو ، اور اُس کے ہاتھوں کی رگیں نیلی پڑجائیں۔ تب عورت کتنی سندر لگتی ہے، کتنی سندر!‘‘
میں نے سوچا، شاید یہ نگینہ بھی سومرسٹ مام کی فیکٹری سے بن کر آیا ہو۔
میں نے نفاست حسن کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’خفگی چھوڑو میاں! سومرسٹ مام تو ایک دیوتا ہے۔‘‘
وہ بولا ’’اور میں؟‘‘
’’آپ بھی دیوتا ہیں، میاں!‘‘
میں نے اسے بتایا کہ دیوتاؤں میں تین بڑے دیوتا ہیں۔۔۔ برہما، وشنو اور شو۔ اپنی اپنی جداگانہ اہمیت کے باعث وہ بے حد ممتاز بن گئے ہیں۔ برہما جنم دیتا ہے، وشنو پرورش کرتا ہے، اور شو ٹھہرا موت کا ناچ ناچنے والا۔۔۔ نٹ راج!
نفاست حسن کا دھیان اب میری طرف کھنچ گیا۔ ادھر مولانا کی آنکھوں میں غصّہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ اور وہ میری بات میں دلچسپی لے رہے تھے۔ میں نے بتایا کہ ہر ادیب مختلف وقتوں میں برہما، وشنو اور شِو ہوتا ہے۔ جب ایک شخص ایک چیز لکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ میں اسے برہما کہنا پسند کروں گا۔ وہ اس چیز کو سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔ ہرممکن اصلاح کرتا ہے ، اس وقت وہ وشنو کا ہم پلّہ ہوتا ہے اور جب وہ اپنے ہی ہاتھ سے کسی تحریر کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالتا ہے، وہ سو فیصدی شو کا روپ دھار لیتا ہے۔
مولانا بولے۔ ’’بہت خوب! آپ کا تخیّل مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔‘‘
میں نے جھٹ سے کہہ دیا۔ ’’میرا تخیل ! نہیں‘‘ مولانا ’’نہیں۔ یہ میرا تخیل نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ میرا طبع زاد خیال نہیں ہے۔۔۔‘‘
’’تو کس کا خیال پیش کر رہے ہیں آپ؟‘‘
’’بمبئی کی پی ۔ ای ۔ این سوسائٹی میں بلبلِ ہند مسز سروجنی نائیڈو نے میری ایک تقریر پر صدارت کرتے ہوئے یہ خیال پیش کیا تھا۔‘‘
’’بہت خوب۔۔۔! بلبلِ ہند نے آپ کی تقریر پر صدارت کی تھی۔۔۔! ہاں، تو اب کوئی طبع زاد خیال سنائیے نا!‘‘
’’طبع زاد۔۔۔! طبع زاد کی بھی خوب کہی، مجھے تو سرے سے یہی شک ہورہا ہے کہ طبع زاد نام کی کوئی چیز ہوتی بھی ہے یا نہیں۔‘‘
نفاست حسن بوکھلایا۔ ’’کیا کہہ رہے ہو، میاں؟ سنیے میں ایک خیال پیش کرتا ہوں۔۔۔ جونہی صبح کی پہلی کرن آنکھیں ملتی ہوئی دھرتی پر اتری پاس کی کچّی دیوار انگڑائی لے رہی تھی۔‘‘
مولانا نے حیرت سے کہا۔ ’’دیوار انگڑائی لے رہی تھی!‘‘
میں نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس وقت نفاست حسن ایک برہما ہیں، مولانا!‘‘
’’برہما؟‘‘
’’جی ہاں، برہما۔۔۔ اور نہ جانے کب تک وہ وِشنو بنا ہوا یہ خیال سنبھال سنبھال کر رکھے گا۔۔۔ اور پھر ایک دن وہ شو بن جائے گا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس خیال کا گلا گھونٹ ڈالے گا۔ اسے خود اپنی تخلیق پر ہنسی آئے گی۔۔۔ صرف ہنسی، اگر یہ خیال اس کا سو فیصد طبع زاد خیال نہیں ہے۔ اور پوری پوری شرم، اگر یہ سچ مچ اس کا سو فیصدی طبع زاد خیال ہے۔‘‘
نفاست حسن چاہتا تو جھٹ میرے خیال کی تردید کردیتا۔ مگر وہ چپ بیٹھا رہا۔ شاید وہ کچھ جھینپ سا گیا تھا اور اپنی کمتری کے جذبے کو چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔
مولانا بولے۔ ’’برہما، وشنو اور شو کے متعلق آج میں کچھ اور بھی سننا چاہتا ہوں۔‘‘
میں نے کہا ’’سنیے وشنو اور شو کے ہزاروں مندر ہیں اور برہما کا ایک بھی مندر نہیں ہے کہیں‘‘
’’برہما کا ایک بھی مندر نہیں۔‘‘
’’جی نہیں، سنیے تو، بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ ایک بار وشنو اور برہما میں یہ مقابلہ ہوگیا کہ کون پہلے شولنگ کی گہرائی اور اونچائی کا پتہ لاسکتا ہے۔ وشنو جڑ کی طرف چل پڑا اور برہما چوٹی کی طرف۔ برہما اوپر چڑھ گیا۔ مگر شولنگ کی چوٹی کہیں نظر نہ آتی تھی۔ اوپر سے ایک چنبیلی کا پھول گرتا آرہا تھا۔ برہما نے پوچھا ’’کدھر سے آنا ہوا؟‘‘
پھول بولا۔۔۔ ’’شولنگ کی چوٹی سے۔‘‘
برہما نے پوچھا۔۔۔ ’’کتنی دور ہے وہ چوٹی؟‘‘
پھول نے کہا۔۔۔ ’’دور بہت دور۔‘‘
برہما چنبیلی کے ہمراہ واپس ہوا۔ راستے میں اس نے اس پھول کو اتنا سا جھوٹ بولنے کے لیے رضامند کرلیا کہ وہ وشنو کے سامنے کہہ دے کہ وہ دونوں خاص شولنگ کی چوٹی سے ہوتے ہوے آرہے ہیں۔ مگر شو تو ٹھہرا انتر جامی۔ برہما اور چنبیلی کو بڑی بھاری سزا دی گئی۔ رہتی دنیا تک برہما کا کہیں مندر نہ بنے گا۔ چنبیلی کسی مندر میں پوجا نہ چڑھائی جائے گی۔
نفاست حسن بولا۔ ’’مگر یہ تو نیا زمانہ ہے۔ اب تو شاید برہما کا بھی مندر بن جائے کہیں۔ اور میرا یقین ہے کہ اگر برہما پر کوئی پھول چڑھے گا تو وہ بلا شبہ چنبیلی کا پھول ہی ہوگا۔‘‘
نفاست حسن نے یقیناًاس وقت یہی سوچا ہوگا کہ اب تک وہ خود فقط ایک برہما ہی ہے، کیونکہ اس کے پبلشر نے اس کے افسانوں کا ضخیم مجموعہ شائع کرنے سے ابھی تک گریز ہی کیا ہے۔ مگر جونہی یہ کتاب شائع ہوگی۔ اس کی شہرت کا حقیقی مندر تعمیر ہوتے دیر نہ لگے گی۔ اور اس مندر میں چنبیلی کے پھول ہی اس پر چڑھائے جایا کریں گے۔
اپنے متعلق اس قدر غلط فہمی رکھنے میں اس کے دوچار گہرے دوستوں ہی کا ہاتھ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اشا کے گھونگھٹ کھولنے سے پہلے کی ساری سیاہی اور سرخی۔۔۔ اندھیارے اور اجالے کی گنگا جمنی سرگوشیاں۔۔۔ اس کی طبع میں بہت نمایاں نظر آتی ہیں۔ اور اگر اس نے شروع میں روسی افسانوں کے ترجمہ میں اپنی اٹھتی جوانی کا زور لگانے کے بجائے طبع زاد افسانے لکھنے میں سرگرمی دکھائی ہوتی تو آج اس کا نام صف اوّل کے ترقی پسند افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ اب بھی گرے ہوئے بیروں کا کچھ نہیں بگڑا۔ اگر یہ سو فیصدی طبع زاد افسانہ نگار سو فیصدی وسیلہ ساز بھی ہوتا گیا، تو یقیناًوہ ہندوستان بھر کے افسانوی ادب کی چوٹی پر نظر آئے گا۔
ایک بار دوستوں نے اسے بتایا کہ وہ بڑا صاف گو ہے۔ چنانچہ سپنوں میں بھی یہ خیال اس کا تعاقب کرنے لگا کہ واقعی وہ بڑا صاف گو ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو سو فیصدی طبع زاد افسانہ نگار کو زندگی کے مطالعے میں حقیقی مدد دے سکتی ہے۔ جب اس نوکری کے لیے اس نے درخواست بھیجی تو اس سے پوچھا گیا کہ اس نے کس مضمون میں اپنا علم پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ بلا جھجک اس نے لکھ بھیجا کہ میں نے اپنی بیشتر زندگی بیسواؤں کا مطالعہ کرنے میں گزاری ہے۔ گو اس صاف گوئی سے کہیں زیادہ کسی کی سفارش ہی نے اسے یہ نوکری دلانے میں مدد دی تھی۔ مگر وہ برابر نئے ملنے والوں کے روبرو اس کا ذکر بڑے فخر سے کیا کرتا تھا۔ صاف گوئی، سو فیصدی صاف گوئی! میں نے سوچا شاید اس صاف گوئی کی سرحد نے ابھی گھر کی دیواروں تک پاؤں نہ پھیلائے ہوں گے۔ گھر میں آکر تو اکثر بڑے بڑے ترقی پسند ادیب بھیگی بلّی بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ اس کی ترقی پسندی بڑی حد تک عریاں جنسی بیان سے گھری رہتی تھی مگر کچھ عرصے سے اس کے ذہن میں یہ وہم سما گیا تھا کہ وہ کسی بھی جاندار یا بے جان شے کے گرد اپنے افسانے کو گُھما سکتا ہے۔ اپنے ایک افسانے میں اس نے ایک پتھر کی سرگزشت بیان کی تھی جو ایکاایکی کسی کنواری کی اُٹھتی مچلتی ہوئی چھاتی سے ٹکرانے کے لیے بے قرار ہو اٹھا تھا۔ آدمی بدستور آدمی ہے۔ مگر پتھر اب پتھر ہی نہیں ہے۔ یہ بات اس نے بڑی گہرائی سے لکھی تھی۔ نفسیات کی سرحدیں اب سکڑی نہ رہیں گی۔ پتھر اب پتھر ہی نہیں ہے، نہ بجلی کا کھمبا بجلی کا کھمبا ہی۔ وہ چاہتا تو اپنے سگرٹ کیس میں بھی دل ڈال دیتا اور اس کے گرد نفسیات کا باریک جال بن دیتا۔
اس کی زبان نہ بہت مشکل تھی نہ بہت آسان۔ یہاں وہاں نئی نئی تشبیہیں بھی حاضر رہتی تھیں۔ ابھی اسے کسی کا پھولا ہوا تھیلا دیکھ کر حاملہ عورت کے پیٹ کا دھیان آگیا، ابھی کسی کی ذہنی کمزوری اس دوشیزہ سی نظر آئی جو آندھی میں اپنی ساری سنبھالنے سے قاصر ہو۔ کسی کے بول سوڈے کے بلبلے تھے تو کسی کی ناک چینی کی پیالی کی ٹھونٹھنی جیسی۔
شام ہو چلی تھی۔ نفاست حسن اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اپنی انگلیوں سے بالوں میں کنگھی کرتا ہوا چھجّے پر آگیا۔ نکلسن روڈ پر قریب ہی کے ٹیلر ماسٹر کی دکان میں برقی قمقمے روشن ہوچکے تھے۔ چھجّے پر کھڑا کھڑا نفاست حسن پلٹتے ہوئے بولا،
’’مولانا، چلو لگے ہاتھوں سردار جی ہی سے ملتے آئیں۔‘‘
میں حیرانی سے اپنی سیٹ میں دبکا بیٹھا تھا۔ میں نے سوچا یہ سردارجی کون ہیں۔ جن سے ملنے کے لیے نفاست حسن اتنا مشتاق نظر آتا ہے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ وہ صرف اپنے فرق برائے فرق کے نظریہ کے مطابق ہی مجھ سے بھی لمبی داڑھی والے شخص سے ملنا چاہتا ہے۔ حالانکہ خود اس کے چہرے پر داڑھی تو داڑھی مونچھ تک کا نشان ہر دوسرے تیسرے دن ہٹا ڈالا جاتا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے ایک ادیب کی مونچھوں کو محض اس لیے پسند کیا تھا کہ وہ مونچھیں مولانا نے ناپسند کی تھیں۔ مجھے یقین تھا کہ اگر مولانا نے ان مونچھوں کی تعریف میں ایک آدھ بات کہہ دی ہوتی تو وہ فوراً کہہ اُٹھتا، مولانا آپ کی اندھادھند پسند کی تو حد ہوچکی ہے۔ لاحول و لاقوّۃ۔۔۔ آپ نے بھی خوب آدمیوں میں آدمی چنا!
یہ سردار جی کون ہیں؟ یہ سوال میرے ذہن میں پھیلتا چلا گیا۔ ان سے متعارف ہونے کی خواہش دیکھ کر نفاست حسن نے مجھے بھی اپنے ہمراہ لے لیا۔ وہ ایک عجب مستی کے عالم میں سیڑھیوں سے اتر رہا تھا۔ اپنے پاؤں کو وہ ضرورت سے زیادہ زور سے زمین پر پھینکتا تھا اور پھٹ پھٹ کی آواز سے شور پیدا کرتا ہوا پڑوسیوں کے آرام میں مخل ہورہا تھا۔ اس قسم کی حرکت کو وہ آزادی تصور کرتا تھا۔ اور اسے کسی قیمت پر بھی دینے کو تیار نہ تھا۔
ایک بڑے لمبے چوڑے بازار میں گھومتے گھامتے ہم آخر سردارجی کی دکان پر پہنچ گئے۔ پتہ چلا کہ نفاست حسن اسم با مسمّیٰ تھا۔ کیونکہ شراب کی دُکان جہاں اُس نے سردارجی سے ملاقات کا وقت مقرر کیا تھا، سخت بدبودار جگہ تھی۔ میز پر سنگ مرمر کی سلوں پر سوڈا اور وسکی جمی ہوئی تھی اور ہماری نشست گاہ کے قریب ہی ٹوٹے ہوئے آبخوروں کا انبار لگ رہا تھا۔ بغل میں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اپنی ٹانگیں ایک بوسیدہ الماری کے اوپر ٹکائے اپنا منہ پوری طرح کھولے بے ہوش پڑا تھا۔ آبخوروں کے اتنا قریب ہونے کی وجہ سے اس کا کھلا ہوا منہ ایک آبخورہ ہی تو دکھائی دیتا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے مجھے گمان ہوا کہ نفاست حسن اسی شخص سے ملنے آیا ہے۔ گویا اپنے آپ سے، اپنے سندر نام سے انصاف کرنے آیا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد نفاست حسن نے اپنی کرخت آواز سے ، جس سے ہمیشہ کی طرح خواہ مخواہ رندہ چلنے کا گمان ہوتا تھا، پکارا،
’’او میاں جُمّاں۔۔۔! لاؤ تو سردار جی کو۔‘‘
میاں جُمّاں ایک جھاڑن سے بوتل صاف کررہا تھا۔ دن کے وقت وہ اسی جھاڑن سے سڑک پر سے اڑکر آنے والی گرد کو شیشوں میں پڑی ہوئی پیسٹری پر سے جھاڑا کرتا تھا، یا آبخوروں کے درمیان تنے ہوئے جالوں کو صاف کرتا رہتا تھا۔ کچھ دیر بعد جُمّاں نے وسکی کی ایک بوتل اور سوڈے کی دو بوتلیں میز پر لارکھیں۔
سردار جی کی شخصیت سے واقف ہوتے دیر نہ لگی۔ مگر میں بدستور افسانوں کی دنیا میں گھوم رہا تھا۔ پھر میں نے بے محل ہی نفاست حسن سے پوچھا،
’’آپ کے افسانے تو بہت جمع ہوچکے ہوں گے؟‘‘
اس وقت تک وہ سوڈا اور وسکی دونوں کو ملا چکا تھا۔ میں نے سردار جی سے متعارف ہونے سے انکار کردیا تھا۔ اس لیے اس نے اور مولانا نے گلاس ٹکرائے اور اپنے اپنے منہ سے لگا لیے۔ ایک گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے نفاست حسن بولا،
’’میں افسانے وغیرہ کبھی اکٹھے نہیں کرتا۔ میرے افسانے کبوتر کے بچّے ہیں۔ جنھیں میں لکھتا ہوں اور کہتا ہوں۔۔۔ او کبوتر کے بچّو! اڑ جاؤ اور وہ اڑجاتے ہیں۔‘‘
اس تشبیہ کے انداز کی میں نے بہت تعریف کی۔ سچ پوچھو تو اس وقت میرے ذہن میں آئین سٹاین کا نظریۂ اضافیت نمایاں ہوگیا تھا۔ ہر چیز کو دوسری چیز سے نسبت ہے، افسانے کو کبوتر کے بچّے سے، فاحشہ عورت کی مسکراہٹ کو بدررو میں پھٹتے ہوئے بلبلے سے، صبح کی پہلی کرن کو انگڑائی لیتی ہوئی دیوار سے، نفاست حسن کو چرخے سے۔۔۔
اس وقت میں سوچنے لگا کہ یہ تشبیہیں، نادر اور دور از کار تشبیہیں اس عظیم الشان ادیب کے دماغ میں پیدا کہاں سے ہوتی ہیں۔ پھر مجھے فوراً ہی خیال آیا، یہ تو ایک سیدھا سادہ سا عمل ہے خود نفاست حسن نے ایک بار مجھے بتلایا تھا کہ اسے قبض کی شکایت کبھی نہیں ہوتی۔ بعض مصنف تو سخت قبض میں مبتلا نظر آتے ہیں، بے چارے بہت زور لگاکر لکھتے ہیں۔ میں نے سوچا، اس لحاظ سے تو نفاست حسن ہر روز رات کو دودھ کے ساتھ اطریفل زمانی کھاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پتھّر، بلبلے، رگھبیر، پہلوان، کتاب، میز ، کرسی، قلم، دوات، ہر چیز پر لکھ کر ان کے مجموعوں کے نام دوڑو، بھاگو، رؤو، پیٹو رکھ سکتا ہے۔
مگر میں بہت دیر تک ان افسانوں کی دنیا میں نہ رہ سکا۔ اس وقت تک دونوں ادیب وسکی کی بوتل آدھی کے لگ بھگ ختم کرچکے تھے۔ معاً ان کے خیال میں قسم قسم کی شراب کو ملاکر پینے کی دھن سمائی۔ چنانچہ جُمّن میاں نے بہت سی بوتلوں سے ایک ایک پیگ انڈیلا، اور پھر سب کو وسکی میں انڈیل دیا۔ اس وقت مولانا شراب میں اپنے آپ کو کھو رہے تھے۔ شاید اُنھوں نے اسی لیے نفاست حسن کی ادبی جولانیوں کو سراہنا چاہا اور پیگ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے انھوں نے نفاست حسن کو ایک تھپکی دی اور بولے،
’’شاباش! برخوردار۔۔۔لکھے جاؤ!‘‘
نفاست حسن جو سردارجی کے مکان کی فضا سے بہت مانوس تھا اور جو بغیر بوکھلائے بہت سے پیگ پی سکتا تھا، بولا،
’’بس بس مولانا! یہی ایک بات ہے جو مجھے سرے سے ناپسند ہے۔ اس بیہودہ سرپرستی کی مجھے چنداں ضرورت نہیں، آپ کی مدح و ذم کی مجھے مطلق پروا نہیں۔ سمجھے آپ؟ اگر آپ نے میرے افسانے پڑھے تو اس سے میرا کچھ سن 58 ور نہیں گیا۔ اگر نہیں پڑھے تو کچھ بگڑا نہیں۔‘‘
مولانا کو اس بے جا گفتگو سے سخت حیرت ہوئی۔ اپنے میزبان کے کندھے تھپکتے ہوئے بولے ’’برخوردار! اگر تم افسانہ نگاری کے بجائے مٹّی کا تیل بھی بیچا کرتے تب بھی میرے دل میں تمھاری ایسی ہی عزّت ہوتی۔‘‘
یہ دونوں ادیب تو آپس میں سنجیدگی سے گفتگو کررہے تھے۔ مگر میں اس ماحول میں بوکھلا سا گیا۔ پھر مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ ادیب میری طرح پرہیزگار ہیں اور شراب دراصل میں پی رہا ہوں۔
ایک اور پیگ حلق سے نیچے اتارنے کے بعد نفاست حسن نے پاپڑ کا ایک ٹکڑا منہ میں ڈالا اور کہا،
’’مولانا! میں لکھنا چاہتا ہوں، بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ میری کبھی کسی چیز سے تسلّی نہیں ہوتی‘‘
اور ابھی نفاست حسن نے گفتگو ختم بھی نہ کی تھی کہ مجھے خیال آیا کہ تسلّی کیسے ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے افسانے تو کبوتر کے بچّے ہیں اور جب تک وہ کبوتر کے بچّے رہیں گے وہ پھرسے نفاست حسن کے پاس سے اڑجائیں گے۔ آخر نفاست حسن نے کوئی چھتنارا بھی تو قائم نہیں کیا تاکہ بیچارے اسی پر کبھی کبھی آکر بیٹھ جائیں۔ اور اپنے گزشتہ مالک کو دیکھ لیں۔ اب وہ بے شمار آوارہ روحوں کی طرح ایک لا یعنی آسمان میں پر پھڑپھڑاتے پھر رہے ہیں۔
نفاست حسن اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بولا،
’’بس ایک چیز لکھ لوں گا، ایک چیز، تو میری تسلّی ہوجائے گی۔ اس کے بعد میں مر بھی جاؤں تو بھی یہی سمجھوں گا کہ میں نے زندگی میں ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔‘‘
مولانا کے اور میرے حقیقی اور قیاسی نشے ہرن ہوگئے۔ ہماری دونوں کی توجّہ اس افسانے کا پلاٹ سننے کے لیے نفاست حسن کے پتلے اور نحیف چہرے کی طرف اٹھ گئی۔ نفاست حسن بولا،
’’میں ان دنوں بمبئی میں رہتا تھا۔ میرے مکان کا ایک دروازہ ایک غسل خانے میں کھلتا تھا۔ اس غسل خانے میں ایک درز تھی۔ بس اسی درز میں سے میں کنواری لڑکیوں کو نہاتے ہوئے دیکھتا تھا۔ ادھیڑ عمر کی اور بوڑھی عورتوں کو بھی۔ اس کے علاوہ نوجوان مرد بھی نہانے کے لیے آیا کرتے تھے اور جیسا آپ کو معلوم ہے انسان عام زندگی میں وہ حرکتیں نہیں کرتا جو غسل خانے میں کرتا ہے۔‘‘
میں اس بات کو سمجھ نہ سکا۔ لیکن میرے سامنے آئین سٹاین کا نظریۂ اضافیت تھا۔ اس لیے میں نے چنداں پروا نہ کی اور سنتا چلا گیا۔ نفاست حسن بولا،
’’بس ان غسل خانے میں نہانے والیوں اور نہانے والوں کے متعلق میں لکھ کر مرجاؤں تو مجھے کوئی افسوس نہ ہوگا۔ اس افسانے کا نام رکھوں گا۔۔۔ ’ایک درز میں سے۔۔۔!‘ اور مرجاؤں گا۔‘‘
مجھے نفاست حسن کی اِس حرکت پر بہت ہنسی آئی اور میرا جی چاہنے لگا کہ اگر میں اس کا تذکرہ لکھ کر مرجاؤں تو مجھے بھی زندگی میں کوئی حسرت نہ رہ جائے گی۔
مولانا، جو نفاست حسن کی ’’بے تکیوں‘‘ کو بڑے غور سے سن رہے تھے، کچھ نہ بولے۔ نہ جانے نفاست حسن کے دل میں خود ہی خیال آیا کہ اس نے مولانا کی ہتک کی ہے۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ بوسہ کے لیے اس نے اپنا دایاں گال مولانا کے سامنے پیش کردیا۔ مولانا نے تبرّکاً ایک بوسہ لے لیا۔ اس کے بعد نفاست حسن نے بایاں گال پیش کردیا۔ مولانا کے نزدیک اب تبرّک کا مسئلہ نہیں رہا تھا۔ لیکن انھوں نے بوسہ لے لیا۔
میں ان کی باہمی لڑائی کا متوقّع تھا۔ لیکن اچانک مولانا نے اٹھ کر بڑے خلوص سے چھاتی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
’’دیکھو بھائی اب تم مانوگے۔ میں سومرسٹ مام ہوں۔‘‘
نفاست حسن نے اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
’’میں سومرسٹ مام ہوں۔‘‘
مولانا نے کوئی مزاحمت نہ کی بلکہ اپنی چھاتی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے،
’’میں سومرسٹ مام ہوں۔‘‘
پھر نفاست حسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے،
’’تم سومرسٹ مام ہو۔۔۔ ہم دونوں سومرسٹ مام ہیں۔۔۔ جو ہے سومرسٹ مام ہے، جو نہیں ہے وہ بھی سومرسٹ مام ہے۔۔۔ سومرسٹ مام بھی سومرسٹ مام ہے۔۔۔!‘‘
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے