نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے

نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
جو کچھ ہوا براہِ کرم ، بُھول جائیے

ہم نے سرور و لطف میں جو کچھ کہا سنا
سب جھوٹ تھا خدا کی قسم ، بُھول جائیے

تکلیف اور غم کا مداوا ہے ایک ہی
تکلیف بُھول جائیے، غم بُھول جائیے

پی لیجیے پیالہء سقراط بوند بوند
آبِ حیات ہے کہ یہ سم ، بُھول جائیے

ہونا بھی ایک خواب نہ ہونا بھی ایک خواب
کیا ہے وجود کیا ہے عدم ، بُھول جائیے

رکھیے اب اپنی عمر کی نقدی سنبھال کر
جو خرچ ہو گئی وہ رقم ، بُھول جائیے

آپ ایک بار آ گئے سو آ گئے شعور
باغِ جہاں میں باغِ ارم ، بُھول جائیے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے