نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی

نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی
سخن تمام ہوا اور خامشی باقی
زمانہ پھر ترے نقشِ قدم کو چومے گا
تری دهمال میں گر ہے قلندری باقی
ہمارے اشک ہیں آبِ فرات کی صورت
رہے گی حشر تک ان میں بھی تشنگی باقی
ہمارے شہر میں گونجا ہے اک نیا نوحہ
مگر رہا نہ کوئی اب کے ماتمی باقی
تڑپتے رہ گئے دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کو اویس ( رضہ )
جو دل میں چاہ تھی ملنے کی وہ رہی باقی
ڈاکٹر اسد نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے