نادیدہ موت

نادیدہ موت
یک بہ یک
پیڑ تابوت بنتے گئے
صور پھونکا فرشتے نے
اِک موڑ سے
وائرس کی طرح
برف، بارش کے تختے پہ بہتی ہوئی
زندگی، کے چراغوں کو گُل کرگئی
ابنِ یعقوب جیسے ہی خوابوں کو
ہم نے بھی دیکھا
مگر اُن کی تعبیر کو
شہرِ ووہان کے باسیوں نے نہ سمجھا
اگرچہ یہ ترتیب فطری ستاروں کی بدلی
مکاں لامکاں کے نئے زائچے
خود مرتّب کئے
آسمانوں کے رستے بنائے
مگر کِبریائی کے دعوؤں کے پُرزے
ہَوا میں نمی نے اُڑائے
کہ چمگادڑوں نے ہمارے بدن کی سیہ غار سے
اپنے پر پھڑپھڑائے
کفن کے کسی کاٹھ پر
ناگہانی گُلوں کی جلی پتیاں راکھ ہوتی گئیں
سُرخیاں پھول چہروں کی سب خاک ہوتی گئیں
کیسی افتاد ہے
قیرگوں خوف کے اِن سیہ پتھروں پر
گِھساتے ہوئے ایڑھیاں ہم بھی تائب ہوئے
ہم بھی آبِ شفاعت کی اُمید میں
کوہِ مَروا کے چکّر لگانے چلے تھے
مگر دستکیں ساری بے کار نکلیں
کہیں معبدوں کو فرشتوں نے خٰود سے مقفّل کیا
اور صلیبیوں کو دل کی طرح زنگ لگنے لگا
گھنٹیاں مندروں کی چھتوں میں نہیں
سَر بہ سَر وسوسے
نو بَہ بو حیرتیں
چارسُو سَرسرانے لگیں
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے