نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں

نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں
کہ مستقل کسی غم کی نہاد ہے دل میں
ہے الف لیلہ و لیلہ سی زندگی در پیش
سو جاگتی ہوئی اک شہر زاد ہے دل میں
جو ضبط چشم کے باعث نہ اشک بن پایا
اس ایک قطرۂ خون کا فساد ہے دل میں
پھر ایک شہر سبا سے بلاوا آیا ہے
پھر ایک شوق سلیماں نژاد ہے دل میں
ہے ایک سحر دلآویز کا اسیر بدن
تو جال بنتی، کوئی اور یاد ہے دل میں
تمام خواہشیں اور حسرتیں تمام ہوئیں
مگر جو سب سے عجب تھی مراد ہے دل میں
ثمینہ راجہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے