نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں

نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں
کہاں تک اور کسی پر کروں بھروسا میں

وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ اُس کے بعد
کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں

نہ صرف یہ کہ زمانہ ہی مجھ پہ ہنستا ہے
بنا ہوا ہُوں خود اپنے لئے تماشا میں

مجھے سمیٹنے آیا بھی تھا کوئی ؟ جس دن
دیار و دشت و دمن میں بکھر رہا تھا میں

نہ میں کسی کے لئے ہُوں نہ کوئی میرے لئے
یہ زندگی ہے تو کیا میری زندگی ، کیا میں

پڑا رہوں نہ قفس میں تو کیا کروں آخر
کہ دیکھتا ہوں بڑی دور تک دھندلکا میں

اب اس قدر نہ ستاؤ کہ سانس اُکھڑ جائے
بساط سے کہیں بڑھ کر ہوا ہوں رسوا میں

میں خاک ہی سے بنا تھا تو کاش یوں ہوتا
کہ اُس کے ہاتھ سے گرتے ہی ٹوٹ جاتا میں

انور شعور​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے