نہ ملتا ان کا سنگِ در ، بتاؤ ہم کہاں جاتے

نہ ملتا ان کا سنگِ در ، بتاؤ ہم کہاں جاتے
کہاں جھکتا ادب سے سر، بتاؤ ہم کہاں جاتے

سنبھالا آپ نے ہر دم ، نہیں گرنے دیا ہم کو
لگی ہوتی اگر ٹھوکر ، بتاؤ ہم کہاں جاتے

بڑے لجپال ہیں آقا ، نبھاتے ہیں غلاموں سے
نہ ہوتے شافعِ محشر ، بتاؤ ہم کہاں جاتے

کبھی سوچا اگر شامل نہ ہوتے انکی امت میں
بڑے رسوا سبھی ہو کر ، بتاؤ ہم کہاں جاتے

زبانیں سوکھ کر کانٹا سوا نیزے پہ سورج بھی
نہ ہوتے مالکِ کوثر ، بتاؤ ہم کہاں جاتے

محمد رضا نقشبندی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے