نہ کوئی عہد، نہ پیمان

نہ کوئی عہد، نہ پیمان
نہ کوئی عہد، نہ پیمان
نہ وعدہ ایسا
نہ تیرا حُسن ہی ایسا کوئی انگشت تراش
نہ میرے ہاتھ میں تاثیرِ زلیخائی ہے
رقص گہ ہے یہ جہاں اور نہ میں سِنڈریلا ہوں
نہ تُو شہزادہ ہے
ہم تو بس رزم گہِ ہستی میں
دو مبارز دِل ہیں
اِس تعلق کا کوئی رنگ اگر ہے تو حریفانہ ہے
ایک ہی تھال سے چُننی ہے ہمیں نانِ جویں
ایک ہی سانپ کے منہ سے ہمیں من چھیننا ہے
اور اس کشمکشِ رزق میں موہوم کشائش کی کلید
جس قدر میری قناعت میں ہے
اتنی تیری فیاضی میں
میں تیری چھاؤں میں پروان چڑھوں
اپنی آنکھوں پہ تیرے ہاتھ کا سایہ کر کے
تیرے ہمراہ میں سُرج کی تمازت دیکھوں
اس سے آگے نہیں سوچا دل نے
پھر بھی احوال یہ ہے
اِک بھروسہ ہے کہ دل سبز کئے رکھتا ہے
ایک دھڑکا ہے کہ خوں سرد کئیے رہتا ہے
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے