نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا

نہ اس زمانے میں چرچا ہے دانش و دیں کا
نہ شوقِ شعرِ تر و بذلہ ہائے رنگیں کا
شمیمِ زلف یہی ہے تو وحشتِ دل نے
کب انتظار کیا موسمِ ریاحیں کا
بناتِ نعش نے کس واسطے بٹھا رکھیں
نہیں ستارہ گہر خاندانِ پرویں کا
ازل کو دیکھتے ہی ہم سخن کو سمجھے تھے
کہ مشتری نہیں اس گوہرِ نو آئیں کا
نما نما ہے نہایت خلافِ شیوۂ عشق
غلط ہے شوق ہمیں گریہ ہائے رنگیں کا
وہ طرفہ حال کہ جس سے جماد رقص کرے
نہ رنگ بھی متغیر ہو اہلِ تمکیں کا
ہزار مرتبہ فرہاد جانِ شیریں دے
وہی ہے حقِ نمک عشوہ ہائے شیریں کا
عجیب حال میں ہے شیفتہ معاف کرو
جو کچھ قصور بھی ہو اس غلامِ دیریں کا
مصطفیٰ خان شیفتہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے