مت رو سالگ رام

مت رو سالگ رام

جس وقت کامریڈ نور محمد اسپتال لایا گیا، اس کی لگ بھگ آدھی سانس اکھڑ چکی تھی۔ جسم کا کوئی بھی حصہ ثابت نہیں بچا تھا۔ دماغ کا آدھا گوشت تک باہر آ گیا تھا۔ اس کے بچنے کی امید بہت کم رہ گئی تھی—– اور جس وقت کامریڈ نور محمد کو اسٹریچر پر لٹا کر ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا—– وارڈ سے باہر آسمان کو گھورتی ہوئی دو آنکھیں تھیں، دو عجیب سی آنکھیں۔ نہ یہ آنکھیں سہمی تھیں، نہ ان میں خوف و ہراس تھا بلکہ ان آنکھوں پر آسانی سے کسی کو بھی پاگل ہونے کا شبہ ہو سکتا تھا۔

یہ سالگ رام تھا۔ درمیانہ قد، دبلا پتلا جسم، اندر تک دھنسے ہوئے گال، سانولا چہرہ، پتلی پتلی ٹانگیں —– ایک میلا سا کرتا پائجامہ اور آدھی گھسی ہوائی چپل پیر میں ڈالے۔ سر کے بال اجڑے ہوئے، داڑھی بے ترتیبی سے بڑھی ہوئی۔ پھر یوں ہوا کہ اس کے بدن میں تیزی سے حرکت ہوئی، دونوں ہاتھ آپس میں التجا کرنے کے انداز میں اٹھ گئے۔ گلے سے بھنچی بھنچی رونے کی آواز نکلی اور وہ آس پاس کھڑے لوگوں کے سامنے جاجا کر ہاتھ جوڑکر کہنے لگا

تم لوگوں نے نور محمد کو کیوں مارا بھائی۔ میں سچ کہتا ہوں۔ وہ مسلمان نہیں تھا۔ میری بات کا یقین کرو لوگو وہ مسلمان نہیں تھا—– صرف انسان تھا۔ ایک انسان۔

’’چلو چلو‘‘۔ کسی نے جملہ کسا۔ ’’کوئی پاگل ہے ‘‘۔

سالگ رام نے گھور کر دیکھا۔ اندر سے نفرت کی ایک تیز لہر اٹھی۔ اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو اسے لگا۔ اس کے منہ سے کتے جیسی بھنچی بھنچی آوازیں نکل رہی ہوں دانت نوکیلے اور سخت ہو گئے ہیں وہ کسی کی طرف بھی لپک سکتا ہے۔ کسی کو بھی کاٹ سکتا ہے۔ اچانک اس کے گلے سے ایک گھڑ گھڑاتی ہوئی چیخ نکلی۔ اس سے پہلے کہ دوسرے لوگ متوجہ ہوں وہ تیزی سے بھاگتا ہوا گیٹ کھول کر باہر نکل گیا۔

سالگ رام جس وقت باہر آیا، اس کے ذہن میں تیز تیز آندھیاں اٹھ رہی تھیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا منظر صاف صاف تھے ایک چھوٹا سا گھر، چارپائی بچھی ہے۔ کھاٹ پر ننگے بدن اس کا باپ بیٹھا ہے۔ سر منڈا ہوا ہے۔ پیچھے بالوں کی ایک چھوٹی سی چوٹی لٹک رہی ہے۔

سالگ رام—- برف جے سے سرد الفاظ اس کے کانوں میں اترے اشنان کر لیا سالگ رام مندر ہو آئے پھر شلوکوں کا جاپ شروع ہوتا۔ بیچ بیچ میں رسوئی میں کھانا پکاتی اماں کو گالیوں کا تھال پروسا جاتا کیوں رے ابھی تک کھانا نہیں بنا کبھی کبھی شک لگتا ہے کہ تیری برہمن کی جات بھی ہے کہ نہیں۔

اندر ہی اندر سلگ اٹھتا سالگ رام کچّی مٹی کی دھلائی سے زمین سے سوندھی سوندھی خوشبو اٹھ رہی ہوتی۔ اٹھ کر وہ اماں کے پاس رسوئی میں آ جاتا۔ اماں کی روتی آنکھوں کو دیکھ کر سوچتا، بھگوان کی پوجا ارچنا تو سب بیکار ہے، جب من ہی صاف نہ ہو—- اوسارے میں تلک پانڈے زور زور سے اشلوکوں کے پاٹھ میں مصروف ہوتے۔ کہاں تلک پانڈے اور کہاں سالگ رام—- یہ نام کا چکر بھی عجیب ہے، کسی بھی بات میں سمجھوتہ نہ کرنے والے بابو نے دھرم کی راہ میں اس کے اس ہریجن نام سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ ہوا یوں کہ تلک پانڈے کو جب بہت دنوں تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تو کہتے ہیں ایک پہنچا ہوا سادھو ان کے دروازے پر آیا تھا الکھ نرنجن—- سو بھکچا مانگی اور تلک پانڈے کی فریاد سن کر بولا—- گھبرا مت برہمن پتر—- بچہ ہوئے گا۔ لیکن اس کا نام ہریجن کے نام پر رکھنا—- سمجھ گیا نا بچہ—-

نام میں کیا رکھا ہے —- یوں سالگ رام نے اس ماحول میں اپنی آنکھیں کھولیں جب گھر کی ایک ایک ایک شے میں دھرم سانپ کی طرح کنڈلی مارکر بیٹھا تھا۔ بابو جی صبح ہی صبح بھکچھا مانگنے نکل جاتے۔ پھر وہ دوپہر ڈھلے یا شام ڈھلے واپس آتے۔ جب سالگ رام تھوڑا بڑا ہوا تو وہ بھی ساتھ جانے لگا۔

تلک پانڈے کے گھر سے چند فرلانگ کی دوری پر ایک مسلمان کا گھر ہے، وہاں سے گزرتے ہوئے ایک بار سالگ رام کو دیکھ کر اس کا ہم عمر ایک لڑکا زور سے ٹھہاکا مارکر ہنس دیا تھا لڑکے نے سالگ رام کے ننگے سر اور پیچھے لٹکتی چٹلی کو دیکھ کر کہا—-

’’تے رے سر پر پونچھ—- ‘‘

سالگ رام غصے میں بولا—- ’’ملیچھ کہیں کا۔

لڑکے کی ہنسی اچانک غائب ہو گئی۔ اس نے سالگ رام کو بڑے غور سے دیکھا۔ غصے میں بھرا ہوا سالگ رام دندناتا ہوا گھر پہنچ گیا۔ گھر پہنچ کر چھوٹے سے آئے نے میں اس نے اپنی شکل دیکھی اور اس کے سامنے اس کی عمر کے وہ سارے لڑکے گھوم گئے جو چہرے مہرے اور پہناوے سے کے سے سندر دِکھتے تھے۔ اور ایک وہ ہے۔ پیروں میں کھڑاؤں کی کھٹ کھٹ—- بار بار کھل جانے والی دھوتی—- جھولتا ہوا کُرتا—- ٹنڈا سر—- باہر نکلی ہوئی چٹلی—- اسے گھن آ رہی تھی خود سے۔ نفرت محسوس ہو رہی تھی یہ سب —- جے سے اسے ایک اچھی بھلی دنیا سے کاٹ کر کسی قید خانے میں قید کر دیا گیا ہو—- مگر کسی بھی طرح کی بغاوت کے لے ے لفظ کہاں تھے اس کے پاس—- لفظوں کے گھنگھرو تو تلک پانڈے نے پیدا ہوتے اس کے ننھے منّے پاؤں سے کھینچ کر توڑ دے ے تھے۔

سالگ رام جے سے آگ کی گرم گرم بھٹی میں تپ رہا تھا اس رات، کافی دیر تک اسے نیند نہیں آئی—- صبح ہونے تک وہ اپنی سوچ پر ایک نئے فیصلے کی مہر لگا چکا تھا—- تلک پانڈے ہمیشہ کی طرح سویرے اٹھ گئے —- نہا دھوکر پوجا ارچنا سے فارغ ہو کر آواز لگائی—-

’’سالگ رام!‘‘

سالگ رام جے سے اسی آواز کے انتظار میں تھا—- آگے بڑھا اور اپنا فیصلہ سنا دیا—- آج سے میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گا—-

’’کیا—- ‘‘ تلک پانڈے کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہے تھے۔ جس موئے نے کل تک بولنا نہیں جانا تھا آج انکار کا لفظ کے سے سیکھ لیا اور سالگ رام نے اٹک اٹک کر اپنی بات ایک دم سے سامنے رکھی دی—-

’’میں پڑھنا چاہتا ہوں —- میں پڑھوں گا—- میں یہ سب نہیں کروں گا مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا—- ‘‘

تلک پانڈے کے دماغ میں جے سے ایک ساتھ ہزاروں میزائلیں چھوٹ گئیں وہ اٹھے۔ آگے بڑھے اور سالگ رام کے بدن پر تڑاتڑ طمانچوں کی بارش کر دی

سالگ رام اب بھی روتے ہوئے چلا رہا تھا مجھے یہ چٹلی بھی اچھی نہیں لگتی—- میں بال بڑھاؤں گا۔ اسکول جاؤں گاً

پھر ایک لمبا عرصہ گزر گیا—- تلک دھاری نے جے سے ہار مان لی—- بوڑھے ہو گئے تھے۔ انقلاب کے اس نئے تیور کے آگے جھک گئے —- بڑی مشکل سے سالگ رام بی اے کر سکا—- اس بیچ وہ دھیرے دھیرے دھرم، عقیدے جیسی چیزوں سے کٹتا رہا تھا—- اِدھر تلک دھاری نے دنیا کو خیرباد کہا، اُدھر سالگ رام زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگ گیا—- وقت بدلا تھا۔ زمین، پانی، مٹی، ہوا، سب میں نفرت کے جراثیم گھل گئے تھے۔ اس نے بدلے بدلے بھارت کا کچھ انش، تو بابو جی میں تلاش کیا تھا اور کچھ وقت کے تھپیڑوں میں دیکھا—- یہاں تو نفرت کے اندھڑ تھے —- بدبو دار لفظ تھے —- چہرے پر فرق کی ریکھائیں تھیں۔

سالگ رام نے اشنان کر لیا۔ مندر ہو آئے وہ برسوں پیچھے چھوٹی چھوٹی آواز کی زد میں ہوتا اور سالگ رام یہ بھی دیکھ رہا تھا، محبت، میل ملاپ کی کہانیاں تاریخ کے پنّوں میں کھوئی جا رہی ہیں۔ ملک کے حاشئے پر جب سرخ سرخ خون پھیل جاتا تو سالگ رام اپنے اندر چھپے اس چٹلی والے سالگ رام کا جائزہ ضرور لیتا جو نفرت کے اس اندھڑ سے بڑی مشکل سے باہر نکل سکا تھا۔ اب سالگ رام کی پرچون کی ایک چھوٹی سی دُکان تھی لیکن شہر کی کلچرل سرگرمیوں میں بھی اس کی دلچسپی تھی۔

اس دن ایک مسلمان لونڈا اس کی دُکان پر بیٹھا بتا رہا تھا—- ’’ارے یار اسے جانتا ہے نا—- نور محمد—- سالا—- اپنے مذہب سے پھر گیا ہے —- مذہب وزہب کو نہیں مانتا—- عید بقر عید جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑتا ہے ‘‘

’’ایسا—- ‘‘

سالگ رام کو تعجب ہوا—-

مسلمان لونڈے نے دھیمی سرگوشیوں میں بتایا—- ’’کسی سے کہنا مت۔ سالا—- کمیونسٹ ہو گیا ہے۔ پکا کمیونسٹ—- ‘‘

’’کمیونسٹ—- ‘‘

ایک پل کے لے ے سالگ رام کو لگا جے سے اس نے کسی بھیانک حادثے کی کوئی خبر سن لی ہو—- مسلمان ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا۔ مسجد نہیں جاتا۔ کمیونسٹ ہو گیا ہے۔

بچپن کی ادھ میلی تصویر نگاہوں میں مچل اٹھی—- تے رے سر پر پونچھ—- اور اس چٹلی والے سالگ رام نے غصے میں چڑایا تھا ملیچھ کہیں کا—- مسلمان لونڈے کے چلے جانے کے بعد سالگ رام کو اچانک جانے کیوں نور محمد سے ملنے کی خواہش ہوئی—- نور محمد کا نام کسی نہ کسی بہانے وہ برابر سنتا رہا تھا مگر اس سے ملے ایک مدت ہو گئی تھی—-

اس دن وہ اپنے دوست کے ہمراہ کمیونسٹ پارٹی کے دفتر گیا تھا۔ دفتر میں تھوڑی سی بھیڑ بھاڑ تھی۔ اور اس بھیڑ میں رواں دواں بولتا ہوا ایک شخص نظر آیا جس کے ہاتھ پر بینڈج بندھا تھا اور جو ایک چھوٹی سی بچی کا ہاتھ تھامے تھا—- بچی کسی انجانے خوف سے سہمی ہوئی تھی—-

سالگ رام نے بینڈج والے نوجوان کو غور سے دیکھا اور وہ ادھ میلی سی تصویر اس کی نگاہوں میں ناچ اٹھی نور محمد۔

ہیلو کامریڈ—- ایک نوجوان نے نور محمد سے ہاتھ ملایا—- نور محمد نے بھی اپنا بینڈج والا ہاتھ آگے کر دیا—-

’’یہ سب کے سے ہوا؟‘‘

نور محمد کھلکھلا کر ہنس دیا—- بہت ہی سادی ہنسی تھی اس کی—-

اس کے دوست نے بتایا—- اپنا کامریڈ بھی عجیب انسان ہے۔ دنیا میں کوئی بھی مرتا ہو—- کسی کا بھی گھر جلتا ہو—- کامریڈ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ لو—- آج تحریک سے وابستگی تو ایک بے معنی سی شے ہو گئی ہے دوست—- نعرے بازی کی فضا میں سانس لے نے والے بھلا زندگی کی گہرائی میں کیا اتر سکیں گے —- کمٹمنٹ کیا ہوتا ہے، دیکھنا ہے تو نور محمد کو دیکھو۔ اپنے کامریڈ کو—-

سالگ رام نے ایک بار پھر عجیب نظروں سے نور محمد کے ہنستے ہوئے چہرے کا جائزہ لیا—- اور ایک دم سے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا—-

’’سلام کامریڈ۔ دعا کرتا ہوں تمھاری صحت کے لئے ‘‘۔

نور محمد کھلکھلایا—- ’’کیوں —- میری صحت کو کیا ہوا—- اچھا بھلا ہوں —- ‘‘

سالگ رام کو کمیونسٹ پارٹی سے کوئی لگاؤ تو نہ تھا مگر نور محمد کی وجہ سے پارٹی دفتر کے چکر شروع ہو گئے تھے۔ اسے یہ آدمی اچھا لگا تھا—- مکر و فریب اور بناوٹ کی دنیا سے دور—- پھر نور محمد کی زندگی کی کتنی ہی حقیقتیں اس کے سامنے روشن ہوتی چلی گئیں —- نور محمد کا بڑا بھائی ڈاکٹر تھا۔ ایک بہن پروفیسر ہے۔ باپ ایجوکیشن کے محکمے میں ڈپٹی ڈائرکٹر تھے۔ مگر خود نور محمد نے کسی کی بھی نوکری قبول نہیں کی—- وہ چاہتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا۔ مگر اس نے پورے طور پر خود کو پارٹی کے نام پر وقف کر دیا—- اب وہ ہے اور اس کی پارٹی ہے۔ سورس آف انکم بالکل ہی نہیں —- اور وہ بچی—- وہ چھوٹی سی بچی فساد کی دین ہے —- شہر سے پچیس کلومیٹر دور گاؤں میں فرقہ وارانہ دنگے میں لڑکی کے گھر والے شہید ہو گئے —- ریلیف کے کام کے لے ے نور محمد بھی وہاں کا دورہ کرنے گیا تھا اور واپسی میں وہ اس لڑکی کا سرپرست بن کر لوٹا تھا—- لڑکی ہندو تھی، جب کوئی اسے رکھنے کو تیار نہیں ہوا تو اسے نور محمد نے اپنے پاس رکھ لیا۔ نور محمد نے شادی نہیں کی تھی—- اس کی وجہ وہ یہ بتاتا تھا کہ شادی کے بعد وہ پارٹی کو اپنا وقت دے نے کے قابل نہیں رہے گا۔

پارٹی دفتر کے اسٹور روم کو اس نے ایک چھوٹے سے صاف ستھرے کمرے کی شکل دے دی تھی۔ سالگ رام اس دن اچانک وہاں پہنچ گیا تو کیا دیکھتا ہے دروازہ کھلا ہے۔ وہ بچی اس کے پاس بیٹھی ہے اور کامریڈ اس چھوٹی سی بچی نکیتا کو پڑھا رہا ہے —-

’’پڑھو—- مسجد مندر دنگے کرواتے ہیں —- خدا ایک ان دیکھی طاقت کا نام ہے —- اور جو چیز دیکھی نہیں گئی اس کا کیا ماننا‘‘

پتہ نہیں وہ کتنی دیر سے اور کیا کیا تعلیم دے رہا تھا۔ سالگ رام اتنا ہی سن سکا۔ وہ سن سے تھا—- چیل کی آواز سن کر کامریڈ نور محمد چونکا—- چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔

’’ارے سالگ رام—- آ جاؤ—- ‘‘

نکیتا نے نمستے کی—-

سالگ رام نے شک کی نگاہوں سے نور محمد کو دیکھا—-

’’یہ کیا پڑھا رہے تھے —- اس کے لہجے میں ناراضگی تھی—- میں میں یہ سمجھوں کہ تم اس بچی کے ذہن میں ایک نامعلوم سا زہر بھر رہے ہو—- ‘‘

نور محمد نے ٹھنڈی سانس لی—- ’’نہیں زہر باہر نکال رہا ہوں ‘‘۔

سالگ رام نے دیکھا—- نور محمد کا چہرہ اچانک بدلا تھا— آنکھوں سے چنگاریاں نکلیں —

’’اسے سچ بتا رہا ہوں —- سچ سالگ رام—- اس لے ے نہیں، جیسا کہ کہ تم سمجھ رہ ہو—- ایک لا وارث بچی مجھے مل گئی ہے —- اور میں جس Shape میں چاہوں، اسے بدل سکتا ہوں —- دنگوں نے اس کے ماں باپ چھین لے ے —- صرف نکیتا ہی اس کی مثال نہیں ہے —- یہ مہمل سا سوال ہے کہ نکیتا کا قصور کیا تھا—- یا اس کے ماں باپ نے کیا گناہ کے ے تھے —- موقع پرستوں نے موقع پایا۔ گھر لوٹا—- گھر جلایا اور ایک بچی کو لا وارث بنا دیا—- یہ سب تمھارا مذہب کرا رہا ہے سالگ رام—- تمھارا مذہب—- تم جس کے ڈھول پیٹتے رہتے ہو—- مسجدوں کو آباد کرتے ہو—- مندروں میں شنگھ بجواتے ہو—- وہی تمھارا مذہب، جسے ان سیاسی بھیڑیوں نے مہرہ بنا رکھا ہے —- ‘‘

نور محمد کے چہرے پر آ کروش تھا—- برسوں کی تہذیب، تمدن، سب کو تمھارے ان مذہبی جھگڑوں نے ختم کر دیا—- مثالی ملاپ محبت، اب تو بس ایک کھوکھلا ڈھانچہ بچ گیا ہے سالگ رام—- جس میں مندر اور مسجد قید ہے —- ہم تم کہاں باقی ہیں۔ یہ بچی بچی ہے، اس سے پوچھو تو مذہب کے نام پر اس کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ کل کو یہی حال رہا نا، تو نئی تہذیب کے بچے تمھارے مذہب سے نفرت کریں گے سالگ رام—- اور تم بس ترشول بھانجتے رہنا۔

ہنس مکھ چہرہ والے نور محمد کا پہلی بار اتنا خوفناک چہرہ دیکھا تھا سالگ رام نے —- اس بیچ صرف اتنا ہوا کہ نکیتا اٹھی پاس والے اسٹول پر رکھے گھڑے سے گلاس میں پانی ڈالا۔ پانی لا کر اس کے سامنے پیش کیا اور ایک طرف سمٹ کر چپ چاپ بیٹھ گئی—

سالگ رام نے سر اٹھایا۔ دھیرے سے کہنا چاہا—- کامریڈ نور محمد۔ سڑکوں پر اگر خون بہتا ہے تو اس میں مذہب کا کیا قصور—- سیاسی بھیڑے ے اگر مذہب کو اپنا مہرہ بناتے ہیں تو دھرم کا کیا دوش—- تم اس بچی کے اندر زہر بھر رہے ہو

’’نہیں —- اس عمر کے تمام بچے بچیاں کل اسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ میں صرف اس سوچ کو کرید رہا ہوں —- ‘‘

پارٹی دفتر میں لوگوں کے آنے کا وقت ہو گیا تھا۔ اس لے ے سالگ رام وہاں زیادہ دیر تک نہیں بیٹھا—- لیکن نور محمد کی آواز بار بار اس کے ذہن پر شب خون مار رہی تھی کل اس عمر کے تمام بچے بچیاں

سالگ رام کی کنپٹی گرم ہو گئی۔

سالگ رام اس دن پنی دکان میں گاہکوں کو سودا دے رہا تھا کہ وہی مسلمان لونڈا اشرفوا آ دھمکا۔

’’نئی خبر سنتے ہو‘‘۔

ترازو کے پلڑے کو غور سے دیکھتے ہوئے سالگ رام نے تھوڑی سی منڈی اٹھائی—- ’’کوئی نئی خبر ہے کیا؟‘‘

’’بالکل تازی—- ‘‘اشرفوا نے دھماکا کیا—- جانتے ہو نور محمد نے جس بچی کو اپنے یہاں رکھا ہے اسے لے نے اس کا چچا آیا تھا—-

’’پھر؟‘‘

بچی نے جانے سے صاف انکار کر دیا—- بات کافی بڑھ گئی—- ہنگامے بھی ہوئے۔ پارٹی دفتر کا معاملہ تھا—- سارے لوگ نور محمد کے ہی ساتھ تھے —- چچا بکتا جھکتا لوٹ گیا—- لیکن دھمکیاں دیتا ہوا گیا ہے۔ کہہ رہا تھا وہ سب کو دیکھ لے گا سالے ادھرمی ناستک کمیونسٹ بنتے ہیں سالے —- اپنا دھرم تو بھرشٹ ہے ہی بچی کا دھرم بھی بھرشٹ کراتے ہیں —-

اشرف زور زور سے ہنس رہا تھا—- تم دیکھ لینا—- یہ سالا نور محمد اپنی کرنی سے مارا جائے گا۔ سالا مسلمان کے گھر پیدا ہو کر کمیونسٹ بنتا ہے —- اماں کہتی ہیں کمیونسٹ کی قبر میں کیڑے پڑتے ہیں —- مرتے وقت مٹی بھی نصیب نہیں ہوتی—-

سالگ رام کسی اور سوچ میں ڈوبا تھا—- دُکان پر چھوٹے سے ایک بچے کو بٹھا کر وہ پارٹی دفتر نکل گیا—- دفتر میں آج نکیتا والا مدا ہی زیرِ بحث تھا۔ نور محمد نے نکیتا کو پاس ہی بٹھا رکھا تھا—-

ایک بزرگ نے سمجھایا—- بات بڑھانے سے فائدہ بھی کیا ہے نور محمد—- نکیتا کو چچا کے حوالے کر دو‘‘۔

’’میں چچا کے پاس نہیں جاؤں گی—- ‘‘ نکیتا کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

بزرگ نے بچی کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا—- ’’بچی کی پرورش ایک مشکل کام ہے کامریڈ—- اور تمھیں کوئی تجربہ بھی نہیں —- کئی دشواریاں بھی آ سکتی ہیں ‘‘۔

’’میں نہیں جاؤں گی‘‘۔ نکیتا نے پھر چیخ کر کہا۔

نور محمد ایک جھٹکے سے اٹھا—- اس کے چہرے پر ہلکی سی شکن تھی—- بچی کی پرورش پارٹی کی دیکھ ریکھ سے زیادہ مشکل کام تو نہیں —- یہ تجربہ ہی سہی—- جب نکیتا کہتی ہے کہ وہ نہیں جائے گی تو وہ مے رے ساتھ ہی رہے گی‘‘۔

سالگ رام نے دیکھا، نور محمد کی اس بات پر وہاں کھڑے کئی کامریڈوں کے چہرے تن گئے تھے۔ اس نے دھیرے سے سوچا—- کیا اس لے ے؟ کہ وہ لڑکی ہندو ہے اور اسے چچا کے پاس بھیجنے کا مشورہ دے نے والے بھی—- اس نے صرف دیکھا—- اور دیکھتا رہا۔ کہا کچھ بھی نہیں۔ نکیتا چاچا کے ساتھ کیوں نہیں گئی، کچھ ہی دیر بعد اس کا جواب نور محمد کی وہی پرانی مسکراہٹ دے رہی تھی۔

’’سیدھی سی بات ہے سالگ رام—- دنگے مندر مسجد کرواتے ہیں۔ لڑکی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے۔ وہ مے رے پاس خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہے ‘‘۔

لیکن دراصل معاملہ تو اب اٹھ رہا تھا۔ جے سے دھیرے دھیرے یہ بات پارٹی دفتر سے نکل کر چہ می گوئیوں کا لباس پہننے لگی تھی—- دھیرے دھیرے یہ بات پھیلنے لگی کہ ایک مسلمان شخص فساد میں مارے گئے ایک ہندو خاندان کی لا وارث بچی کی پرورش کر رہا ہے —- بات آگے بڑھی تو پارٹی دفتر میں دھمکیاں پہنچنے لگیں۔ نور محمد اپنی بات پر اڑا تھا—- نکیتا اپنی مرضی سے جانا چاہے تو اسے کوئی انکار نہیں۔

اور نکیتا کا جواب تھا—- اس کا چاچا ہندو ہے —- مندر مسجد دنگے کرواتے ہیں۔ وہ یہیں نور محمد کے پاس رہے گی

لیکن نور محمد بھی تو مسلمان ہے —-

’’نہیں ‘‘۔ نکیتا بس اتنا ہی جواب دیتی اور وہی پُر اسرار قسم کی چپّی سادھ لیتی—- نہ منہ پر ہنسی نہ چہرے پر ذرا بھی مسکراہٹ—

پارٹی دفتر میں اس دھمکی کا اثر پڑا تھا—-

اگر دفتر غصے میں آ کر جلا دیا گیا تو پارٹی کا بہت نقصان ہو جائے گا—- قیمتی کاغذات تک برباد ہو جائیں گے —-

کسی نے سمجھایا—- نور محمد تمھارا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں —- اگر بچی کو اپنے پاس رکھنے کی ضد ہے تو پھر یہ جگہ خالی کر دو—-

نور محمد اچانک چونک اٹھا۔ غور سے اس بوڑھے پارٹی ورکر کا چہرہ دیکھا۔ اتنے غور سے کہ بوڑھا کامریڈ ایک دم سے گھبرا گیا۔

نور محمد کے اندر جے سے کسی نے زبردست سناٹا بھر دیا تھا—- اس نے اپنی پوری زندگی پارٹی کے نام وقف کر دی تھی—- اسی لے ے اس نے کہیں سروس نہیں کی—- شادی نہیں —- ڈاکٹر بھائی اور ایڈوکیٹ بہن اس کا خرچ پورا کرتے ہیں یہ محتاجی تو اس نے صرف اور صرف پاٹی کے لے ے ہی قبول کی تھی—- لیکن وہ یہ کیا سن رہا ہے

ٹن ٹن

ذہن پر جے سے کوئی لگاتار ہتھوڑا مار رہا تھا—- تم یہ جگہ خالی کر دو نور محمد۔ تم یہ جگہ چھوڑ دو آؤ نکیتا—-

نور محمد نے نکیتا کا ہاتھ تھام لیا—- بوڑھے پارٹی ورکر نے چونک کر نور محمد کی طرف دیکھا—-

’’تم میری بات کا بُرا تو نہیں مان گئے کامریڈ!‘‘

’’نہیں تو—‘‘ نور محمد مسکرایا۔ ’’بالکل نہیں — یوں بھی کرایہ لگا کر اس کمرے کے دو سو روپے آسانی سے مل سکتے ہیں —- کیوں کامریڈ؟

پھر وہ رُکا نہیں —- نکیتا کا ہاتھ تھام کر تیزی سے باہر نکل گیا—-

سالگ رام ایک بار پھر سن سا تھا۔ دکانداری میں دل نہیں لگ رہا تھا—- کان بج رہے تھے —- ذہن میں آندھیاں چل رہی تھیں لیکن نور محمد بھی تو مسلمان ہے نہیں اگر انسان کہوں تو جسے آج کے دور میں ایک سطحی، بے حقیقت سا لفظ بنا دیا گیا ہے انسان؟ کے سے ہوتے ہیں؟ جے سے ہزاروں گھوڑے اس کی فکر کے میدان کو روندتے ہوئے بڑھ رہے تھے —- ٹاپ ٹاپ

اس نے دیکھا—- ایک کمرے کا ایک چھوٹا سا گھر ہے —- دو بچے بیٹھے ہوئے ہیں اور نور محمد ٹیوشن پڑھا رہا ہے ٹیوشن پڑھاتے پڑھاتے اچانک اس نے نظر اٹھائی— چونک گیا—

سالگ رام—- کب آئے بیٹھو جاؤ لڑکو—- بعد میں آ جانا—- ::

لڑکوں کے جانے کے بعد نور محمد نے مسکراتے ہوئے نکیتا کی طرف دیکھا۔ پھر وہی پرانی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا—-

پارٹی کے علاوہ بھی میری ایک ذمے داری بڑھ گئی ہے —- یہ—- اس نے نکیتا کی طرف اشارہ کیا—- ٹیوشن پڑھا رہا ہوں آج کل—- کچھ آمدنی ہو جاتی ہے —- ‘‘

لفظوں میں درد سمٹ آیا تھا۔ لیکن وہ اس درد کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہم نام دے کر رشتوں کو بانٹ دے تے ہیں سالگ رام آخر میں نکیتا کی پرورش کیوں نہیں کر سکتا۔ کیا صرف اس لے ے کہ میرا نام مسلمان کا ہے زندگی کے مفہوم کو ہم اب بھی غلط راستوں میں تلاش کر رہے ہیں سالگ رام—- ہماری غلطی یہی ہے کہ ہم ناموں میں جوہر تلاش کرتے ہیں اور پہچان ڈھونڈتے رہتے ہیں

اس کے چہرے پر کرب ہی کرب تھا—- نکیتا کا معاملہ اب قانونی رنگ اختیار کر گیا ہے ‘‘۔

’’پھر کیا ہو گا؟‘‘

نور محمد نے ایک بوجھل سانس لیا—- مندر مسجد معاملے کی طرح اس میں بھی مذہب کا رنگ ہے ظاہر ہے تمھارا مذہب جیت جائے گا، میں ہار جاؤں گا

اس کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ طلوع ہوئی تھی—- تم رتھ یاترائیں نکالتے ہو پد یاترائیں کرتے ہو—- اور تمھارے رہنما نفرت کی روٹیاں تقسیم کرتے کرتے دلوں کو تقسیم کرتے جاتے ہیں —- مجھے آنے والے وقت اور کل کے ہندستان سے ڈر لگتا ہے —- خیر چھوڑو—- چائے پیو گے پاس ہی ہوٹل ہے۔ میں چائے کا آرڈر دے کر آتا ہوں

نور محمد نے چپل پہنی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ سالگ رام کے پاس اتنا موقع کافی تھا کہ تجسس کے پرندے کو آزاد کر کے وہ نکیتا سے تھوڑی سے بات چیت کر سکے —-

’’نکیتا—- ‘‘ اسے اپنی آواز بہت کمزور سی لگی۔

نکیتا نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا—-

’’نکیتا تم سچ مچ چاچا کے پاس نہیں جانا چاہتیں؟‘‘

’’نہیں —- وہاں سب دھرم کو ماننے والے لوگ ہیں —- وہ کسی بزرگ کی طرح گویا تھی—- اور دھرم انسان کا دشمن ہے۔ دھرم دنگے کرواتا ہے —- خدا ایک ان دیکھی سچائی ہے —- اور جو چیز دیکھی ہی نہیں گئی اس کا کیا ماننا—- ملک میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب دھرم کے ٹھیکیدار۔

سالگ رام کو اس کی آنکھوں میں بڑھاپا اُترا ہوا لگا—- اسے لگا جے سے نکیتا نے اپنا سبق کچھ اس طرح یاد کر لیا ہو کہ اب کبھی نہیں بھولے گی سالگ رام کے دل میں اتھل پتھل سی مچ گئی—- اس کے لفظ گونگے تھے وہ غور سے اس چھوٹی سی بچی کا چہرہ پڑھ رہا تھا جو اس لہولہان بھارت میں —- وقت کے تھپیڑوں میں کھو کر—- کہیں بہت زیادہ جوان اور تجربہ کار ہو گئی تھی—-

تبھی نور محمد دو چائے کے گلاس لے کر آ گیا۔ اس کا لہجہ خوف زدہ تھا۔ ’’چائے پی کر یہاں سے سیدھے گھر چلے جاؤ سالگ رام۔ بازار میں ٹینشن ہے ‘‘۔

نکیتا نے خوفزدہ نگاہوں سے نور محمد کی طرف دیکھا اور نور محمد چائے کا گلاس کانپتے ہاتھوں میں اٹھا کر کمرے میں ٹہلنے لگا—-

’’یہ کیسا ملک ہے یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے کامریڈ نور محمد نہیں رہا وہ سرپٹ بھاگ رہا ہے پاگلوں کی طرح وہ جے سے اس موضوع پر کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتا ذہن کی نسیں جے سے اچانک ہی کس جائیں گی۔ پھر چٹخ جائیں گی۔ لیکن کامریڈ نور محمد کا وہ زرد زرد سا چہرہ سالگ رام کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتا ہر بار جیسے مسکراتا ہوا وہ شخص سانپ کی طرح کنڈلی مارکر سامنے ہی بیٹھ جاتا ہے مجھے دلوں کی تقسیم سے ڈر لگتا ہے سالگ رام آنے والے وقت اور کل کے ہندستان کے تصور سے دور تک خون کے چھینٹے ہی چھینٹے ہیں۔ اور ان میں ایک لہولہان تصویر بچی ہے کامریڈ نور محمد کی سالگ رام ذہن کے دروازے کو سرکش گھوڑے اب تک روند رہے ہیں سالگ رام، تم ایک بے مروت ملک کی پیداوار ہو سالگ رام۔

اور سالگ رام کو لگتا ہے اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اس ملک سے نفرت کرتا ہاں اس ملک سے زور دار نفرت۔ ہاں اس ملک سے جہاں وہ جنما ہے ایک چھوٹا سا بچہ جب کسی بات پر ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنا سارا غصہ اپنی ماں پر نکالتا ہے —- اسے بھی ملک پر غصہ کرنے کا حق ہے

اس کے وجود پر جیسے برف کی موٹی موٹی سل رکھ دی گئی تھی شہر جب لہو کی سرخیاں لکھ رہا تھا، یہی نور محمد تھا جو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے لوگوں کو بچانے میں مصروف تھا۔ مگر اسے کیا ملا—- سوائے ایک مسلمان سمجھے جانے کے اور کیا اسے —- اور نکیتا نکیتا کو تو وہ اسی روز پارٹی دفتر چھوڑ آیا تھا—- شاید اس نے کسی انجانے خطرے کی بو سونگھ لی تھی

سالگ رام سالگ رام ایک بار پھر بھیانک سناٹے میں ہے۔ اس کے گلے سے گھڑ گھڑانے جیسی آواز نکلتی ہے —- ٹھیک ویسی جے سے کتّے پتھر مارنے پر نکالتے ہیں۔

سالگ رام سرپٹ بھاگ رہا تھا اور بھاگتے ہوئے وہ صرف ایک ہی سوال کی زد میں تھا—-

’’آخر دنگائیوں نے نور محمد کو کیا سمجھ کر مارا ہے؟‘‘

نور محمد تو مسلمان نہیں تھا—- نور محمد تو کمیونسٹ تھا—- پھر اسے مارنے والوں نے —-

پھر وہ سرپٹ بھاگ رہا ہے —-

اور اب وہ پارٹی دفتر میں تھا—- پارٹی دفتر میں ایک گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا—- بیچ میں دھیرے دھیرے سسکیاں بھرتی نکیتا کھڑی تھی۔ قانونی پیچیدگیوں میں الجھی نکیتا—- بہت ساری آنکھیں سوالیہ نگاہوں سے نکیتا کو گھور رہی تھیں —-

’’اس کا کیا ہو گا؟ کہاں جائے گی یہ؟ کیا چاچا کے پاس؟‘‘

اچانک سالگ رام کے بدن میں حرکت ہوئی۔ اس نے غور سے نکیتا کو دیکھا، پھر دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگا—- اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا—-

’’نکیتا—- تم مے رے ساتھ چلو گی‘‘۔

نکیتا کی سسکیاں اچانک رُک گئیں —— اس نے سالگ رام کی طرف عجیب نظروں سے دیکھا—-

’’سالگ رام میں تمھارے ساتھ چل سکتی ہوں اگر تم دھرم کو

اور بہت سارے لوگوں کی طرح سالگ رام نے بھی دیکھا، نکیتا کسی ٹیپ کی طرح شروع ہو گئی تھی

دھرم انسان کا دشمن ہے۔ دھرم دنگے کرواتا ہے خدا ایک اَن دیکھی سچائی ہے۔ جو وہ چیز دیکھی نہیں گئی، اس کا کیا ماننا ملک میں آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب دھرم کے ٹھیکیدار

مشرف عالم ذوقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے