مت دکھانا کسی کو کوٸی قبالہ صاحب

مت دکھانا کسی کو کوٸی قبالہ صاحب
بن نہ جاٸے یہ محبت کا حوالہ صاحب
وہ ابھی لےتو رہی ہے خلع مرضی سے
پھر کسی حال میں کرنا نہ حلالہ صاحب
فلسفہ زندگی کا کیسے سمجھ آٸےگا
جب تلک نا سُنو عاشق کا بھی نالہ صاحب
پیار مجھ سے تھا اُسے ماہِ مکملجیسا
دِکھ رہا ہے جو تمھیں چاند کا ہالہ صاحب
مات کھاتےہیں سبھی چاندستارے اب تو
اب رُخِ یار بھی لگتا ہے گُلِ لالہ صاحب
عشق میراتو نٸی بات نہیں ہےاُس سے
یہ محبت ہے پُرانی کٸی سالہصاحب
وہ محبت سے مجھے باز نہیں رکھ سکتے
جوسمجھتےہیں مجھےاک ہی نِوالہ صاحب
اب مفادات کو ہیں لوگ محبت سمجھے
یہ محبت ہے مرے قتل کا آلہ صاحب
اب ضرورت ہی نہیں جام وسبُوکی عاجز
پاس رکھ لو یہ تُمھی اپنا پیالہ صاحب
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے