مسکراتی ہوئی میری تصویر

مسکراتی ہوئی میری تصویر
آگ میں اس نے پھینک دی تصویر
کاغزی کشتیوں میں رکھے گئے
کاغذی لوگ کاغذی تصویر
میں نے کھولی تھی باغ کی کھڑکی
اور ٹیبل سے گر پڑی تصویر
دونوں دھندلے دکھائی دیتے ہیں
پاس کے لوگ دور کی تصویر
دور ہوتی رہی کہیں بارش
رات بھر بھیگتی رہی تصویر
رکھ گیا تھا کوئی سرہانے مرے
آپ کی چَین آپ کی تصویر
رہ گئے ہیں کسی کے بٹوے میں
آخری شعر آخری تصویر
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے