Muskurahatein

مسکراہٹیں

مُسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ
استوارِ ازل میں ہے
ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے
کبھی ہیں سہوِ گفتگو
کبھی اشارۂ خرد، کبھی شرارۂ جنوں
کبھی ہیں رازِ اندروں
وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ پارہ ہاے ناں بنیں
وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ برگِ زر فشاں بنیں
کبود رنگ، زرد رنگ، نیل گُوں
کبھی ہیں پیشہ ور کا التہابِ خوں
کبھی ہیں رس، کبھی ہیں مَے
کبھی ہیں کارگر کا رنگِ خَے
کبھی ہیں سنگِ رہ
کبھی ہیں راہ کا نشاں
کبھی ہیں پشتِ پا پہ چور بن کے گامزن
کبھی فریبِ جستجو،
کبھی یہی فراقِ لب، کبھی یہی وصالِ جاں
مگر ہمیشہ سے وہی کرم
کہ جس کا ریشہ استوار ازل میں ہے!

ن م راشد​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے