مسلسل اشک افشانی سے پہلے

مسلسل اشک افشانی سے پہلے
لہو کتنا بہا پانی سے پہلے
یہ دریا خشک ہونے پر تُلا تھا
کسی سقّے کی قربانی سے پہلے
یہ درگاہِ محبت ہے مری جاں
یہاں سینہ ہے پیشانی سے پہلے
بہت سادہ سا تھا ایماں ہمارا
عقیدوں کی فراوانی سے پہلے
کوئی تصویر ہو کر رہ گیا ہے
یہ دل شیشہ تھا حیرانی سے پہلے
علَم اک اَدھ جلا نیزہ ہؤا تھا
خرابے کی نگہبانی سے پہلے
بلائے بدگمانی رقص میں تھی
بھرے شہروں کی ویرانی سے پہلے
کسے مقدور ہے مصرع لگائے
اجل کے مصرعِ ثانی سے پہلے
ہمارے قاتلوں کا نام لینا
ہماری فاتحہ خوانی سے پہلے
عارف امام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے