من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے

من موجی ہے ایک ڈگر میں رہتا ہے
دل کا دریا روز سفر میں رہتا ہے
ایک پتنگ اُڑتی ہے، میری سوچ میں
ڈورلیے، وہ پس منظر میں رہتا ہے
کون لکیریں کھینچ رہا ہے، آنگن میں
کون ہے جو اس خالی گھر میں رہتا ہے
روز میں ان گلیوں کی خیر مناتی ہوں
روز اک شعلہ خیز خبر میں رہتا ہے
کب تک میں گھر کے دروازے بند کروں
خوف یہ کیسا بام و در میں رہتا ہے
چنتے تھے شہتوت کبھی ان رستوں میں
اب پیپل کا پیڑ نظر میں رہتا ہے
فرحت زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے