من کے بھیتر نہ دیکھ

من کے بھیتر نہ دیکھ

آ تجھے
(معذرت آپ کو , اب تجھے لکھ رہا ہوں)
آ تجھے اس زمان و مکاں کی حدوں سے پرے
میری سوچوں کے لنگر سے چند کوس پہ
تتلیوں سے سجا
ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر ہے مرا,
(جو ترے نام ہے)
وہ دکھاؤں تجھے
خواب کے قمقموں سے اجالا کرو
خواب کو توڑ دو
تیری مرضی پیا!
وہ جو دیوار پر ایک بے رنگ خالی سی تصویر ہے
اس میں چاہت سے اپنی بھرو کوئی رنگ
جامنی, سرخ, پیلا___گلابی بھرو
یا سیاہ رنگ دو
جیسے اچھا لگے!
کھڑکیوں کو سجاؤ,
کھلا چھوڑ دو
جیسے اچھا لگے!
پر سنو!!
وہ وہاں, ناریل کے قریب
ایک رستہ ہے, اس پہ نہ جانا کبھی
دیکھ!!! ضدی نہ بن
من کے بھیتر نہ آ
من کے بھیتر نہ دیکھ

عادل وِرد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے