ممکن نہیں حالات کی سولی

ممکن نہیں حالات کی سولی نہ چڑھی ہو
جو بات انوکھی بھی ہو کڑوی ہو کھری ہو

قدرت کے نظاروں کو اگر دیکھنے جائیں
ناران ہو کاغان ہو, کالام , مری, ہو

بد ذوق نگاہوں کے تعاقب سے پریشاں
بس آخری ہو لڑکی اکیلی ہو , ڈری ہو

مہ کش پہ اثر الٹا کرے مہ کی اداسی
حیرت بھی ہو مستی بھی ہو اور اپنی پڑی ہو

مر جائے ترا ہجر گلابوں سے لپٹ کر
خوشبو ہو گھٹن رنج ہو وحشت کی گھڑی ہو

سرکار مرے گھر کبھی تشریف جو لائیں
تو ساتھ میں حسنین ہوں زہراء ہو, علی ہو

تعبیر کسی خواب کی الجھن سے الجھتی
دیوار ہو تصویر ہو آنکھیں ہوں نمی ہو

اک یاد ہتھیلی پہ کوئی روگ ابھارے
اک آگ ہو اور دھیمی ہو روٹی ہو جلی ہو

ہو بارِ سماعت مجھے زنحیر کا گریہ
صحرا ہو اذیت ہو مسافت ہو کڑی ہو

دنیا میں کوئی اور خدا ہے تو بتا جو
خالق بھی ہو , رازق بھی ہو , مالک ہو , غنی ہو

کچھ بھی ہو مگر کم ہو گوارہ نہیں ارشاد
نفرت ہو, محبت ہو, مصیبت ہو, بڑی ہو

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے