ملامت گر نہ مجھ کو کر ملامت

ملامت گر نہ مجھ کو کر ملامت
جلے کو اور تو اتنا جلا مت
گلے مل عید قرباں کو سبھوں کے
ہمارا آہ تم کاٹو گلا مت
تری ناآشنائی کے ہیں بندے
نہ وہ اب ربط نے صاحب سلامت
بہت رونے نے رسوا کر دکھایا
نہ چاہت کی چھپی ہم سے علامت
کبھو تلوار وہ کھینچے ہے اے میر
لڑی قسمت تو سر کو ٹک ہَلا مت
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے