مُخنّث

مُخنّث
چِھدے ہوئے بدن کے بے لباس خاص حاشیے
نمود کو اُبھارتے کھڑے ہیں ایک چوک میں
لبوں سے پھوٹتی ہیں کیا عجیب مسکراہٹیں
کریہہ دھاریاں ہیں ان کے ناخنوں پہ نیل پالشوں کے روپ میں
یہ ایسے اَدھ کِھلے گلاب کیوں درانتیوں سے کٹ گئے ؟
یہ نیلے ناٹکوں میں تیسرے فریق ٹھیک ہیں؟
جو مرکزی اکائی میں سِمٹ گئے
یہ مرتبان میں ابھی پکے نہیں تھے
بٹ گئے
سماج سے بھی کٹ گئے
گُھٹن کی پِیک سے بھرئے گلاس یہ غٹک گئے
یہ بے نصیب راستے زماں کے جنسی تارکول سے ہی ڈھک گئے
یہ نقص بھی عجیب ہے کہ دن کی روشنی گواہیوں سے منحرف ہوئی
مگریہ منصفوں کی رات میں قبول ہے قبول ہے
شفیق ماﺅں کی گداز چھاتیاں، نہ باپ کی وہ جھڑکیاں
کُھلی ہیں پوہ رات میں یہ بے بسی کی کھڑکیاں
خدائی آیتوں میں یہ ہنوز بے نشان ہیں
یہ بانیاں گُرو کی گنگناہٹوں سے دُور ہیں
مچلتی خواہشوں کے شوخ ذائقے
قبولیت کی جیبھ کو ترس گئے
یہ اژدھوں کے ڈنگ چاٹتے شِکم کے غار میں
یہ بھیڑیوں کو دیکھ کر ڈرے نہیں
بہے ہی جا رہے ہیں تیز وقت کے فشار میں
یہ بے حیائی سے لدے ہوئے کثیف غول ہیں؟
یہ بانجھ زندگی کے قافلے ہیں کِس قطار میں؟
یہ آبشار بھی اگر ہے پربتوں کی کوکھ سے
نہیں ہے کیوں کسی بھی دھار میں؟
کسی شمار میں؟
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے