مجھے آج وہیں لے چل سانول !

مجھے آج وہیں لے چل سانول !

جہاں رنگ بہار دکھاتے ہوں
جہاں طائر گیت سناتے ہوں
جہاں بھول کے سب ہی غم اپنے
اِک دوجے کو بہلاتے ہوں
مجھے آج وہیں لے چل سانول!
جہاں چندا سنگ ہوں تارے بھی
جہاں نیّا لگے کنارے بھی
جہان گرنے لگے کوئی تھک کر
تو لاکھوں بڑھیں سہارے بھی
مجھے آج وہیں لے چل سانول!
جہاں گھر گڑیا کے سجائے تھے
جہاں ریت گھروندے بنائے تھے
جہاں بچھڑے تھے اپنے ساتھی
جو پھر نہ پلٹ کر آئے تھے
مجھے آج وہیں لے چل سانول !
جہاں نفرت کی بو پاس نہ ہو
جہاں جذبوں میں کہیں یاس نہ ہو
جہاں خوشیاں اتنی سستی ہوں
جہاں کوئی بھی قلب اداس نہ ہو
مجھے آج وہیں لے چل سانول !
جہاں چاہت میں زنجیر نہ ہو
جہاں کوئی کسی سے حقیر نہ ہو
جہاں پھیلے ضیائے علم و ہنر
جہاں کوئی بے توقیر نہ ہو
مجھے آج وہیں لے چل سانول!
جہاں خوشیوں کا گہوارا ہو
جہاں روشن سب کا ستارہ ہو
جہاں تیرا میرا کوئی نہ ہو
اور صیغہ صرف ہمارا ہو
مجھے آج وہیں لے چل سانول!

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے