مجھے زندگی کی صدا کہہ رہے ہو

مجھے زندگی کی صدا کہہ رہے ہو
بہاروں کی شاید نوا کہہ رہے ہو
مرا دل دھڑکتا ہے آنکھوں میں میری
ہے چہرہ مرا آئینہ کہہ رہے ہو
ابھی تک بہاریں مجھے ڈھونڈتی ہیں
ابھی تک ہے رستہ سجا کہہ رہے ہو
ابھی تک مری خامشی کی صدائیں
ہیں بکھری ہوئی جا بجا کہہ رہے ہو
کبھی یاد آئیں گی میری وفائیں
ابھی تو انھیں تم بُرا کہہ رہے ہو
یہ جو ہر طرف بے حسی چھا رہی ہے
زمانے کی اس کو ہوا کہہ رہے ہو
مجھے اپنے ہاتھوں سے خود قتل کر کے
مری موت کو سانحہ کہہ رہے ہو؟
ابھی زندگی کے بڑے امتحاں ہیں
ابھی سے اِسے تم سزا کہہ رہے ہو؟
چبھن یاد کی ہے یہ میری جسے تم
’’ہے کچھ آنکھ میں پڑ گیا‘‘ کہہ رہے ہو
تری قربتوں میں جو دن تھے گزارے
اُنہیں تم بدن کا نشہ کہہ رہے ہو؟
جو بے چین رکھتا ہے ناہید مجھ کو
وہ ہے ہجر کا سلسلہ کہہ رہے ہو
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے