مجھے پہلے پہل لگتا تھا ، ذاتی مسئلہ ہے

مجھے پہلے پہل لگتا تھا ، ذاتی مسئلہ ہے
میں پھر سمجھا ، محبت کائناتی مسئلہ ہے

پرندے قید ہیں، تم چہچہاہٹ چاہتے ہو
تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے

بڑی مشکل ہے بنتے سلسلوں میں یہ توقف
ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے

وہ کہتے ہیں کہ جو ہوگا وہ آگے جا کے ہو گا
تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ ہے

ہمیں تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکوں بھی
ہماری نسل میں اک جینیاتی مسئلہ ہے

کبھی تم مل نہیں پاتے کبھی فرصت ندارد
ہمارے ساتھ بس یہ دو نکاتی مسئلہ ہے

ہمارا وصل بھی تھا اتفاقی، مسئلہ تھا
ہمارا ہجر بھی ہے حادثاتی، مسئلہ ہے

عمیر نجمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے