مجھے غرض ہے ستارے نہ ماہتاب کے ساتھ

مجھے غرض ہے ستارے نہ ماہتاب کے ساتھ
چمک رہا ہے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ
نپی تلی سی محبت لگا بندھا سا کرم
نبھا رہے ہو تعلق بڑے حساب کے ساتھ
میں اس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے
مجھے یقیں ہے کہ پانی بھی ہے سراب کے ساتھ
سوال وصل پہ انکار کرنے والے سن
سوال ختم نہیں ہوگا اس جواب کے ساتھ
خموش جھیل کے پانی میں وہ اداسی تھی
کہ دل بھی ڈوب گیا رات ماہتاب کے ساتھ
جتا دیا کہ محبت میں غم بھی ہوتے ہیں
دیا گلاب تو کانٹے بھی تھے گلاب کے ساتھ
میں لے اڑوں گا ترے خد و خال سے تعبیر
نہ دیکھ میری طرف چشم نیم خواب کے ساتھ
ارے یہ صرف بہانہ ہے بات کرنے کا
مری مجال کہ جھگڑا کروں جناب کے ساتھ
وصال و ہجر کی سرحد پہ جھٹپٹے میں کہیں
وہ بے حجاب ہوا تھا مگر حجاب کے ساتھ
شکستہ آئنہ دیکھا پھر اپنا دل دیکھا
دکھائی دی مجھے تعبیر خواب خواب کے ساتھ
وہاں ملوں گا جہاں دونوں وقت ملتے ہیں
میں کم نصیب ترے جیسے کامیاب کے ساتھ
دیار ہجر کے روزہ گزار چاہتے ہیں
کہ روزہ کھولیں ترے اور شراب ناب کے ساتھ
تم اچھی دوست ہو سو میرا مشورہ یہ ہے
ملا جلا نہ کرو فارسؔ خراب کے ساتھ
رحمان فارس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے