مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے

مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے
تم بھی طوفان اٹھاؤ گے، چلے جاؤگے
تم جو آئے ہو تو آؤ گے ، چلے جاؤگے
درد اس دل کا بڑھاؤ گے، چلے جاؤگے
تمکو جانا ہی ضروری ہے کہاں سوچا تھا
قسمیں وعدے بھی اٹھاؤ گے، چلے جاؤگے
اب پروتی ہی نہیں خواب گھنی پلکوں پہ
مجھ کو خوابوں میں ستاؤ گے،چلے جاؤگے
آئینہ روز تمھیں دیکھ کر طعنے دے گا
عکس سے آنکھ چراؤ گے، چلے جاؤگے
ہم اگر راہ میں مل جائیں اُسی موضوع پر
چار باتیں ہی سناؤ گے ، چلے جاؤگے
کیا مرا لمس کبھی تم کو گوارہ تھا ؟ نہیں؟
مجھ سے کیا ہاتھ چھڑاؤ گے ؟ چلے جاؤگے؟
میری خاموشی تمھیں چین سے جینے دے گی ؟
مجھ سے کیا آنکھ ملاؤ گے ، چلے جاؤگے
ہے مجھے علم تم آؤگے مری تربت پر
قیمتی پھول چڑھاؤ گے، چلے جاؤگے
سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے