مجھ کودل سے بھی چاہتے ہیں آپ

مجھ کودل سے بھی چاہتے ہیں آپ
ہاتھ اُن کا بھی تھا متے ہیں آپ
روگ بھی آپ کو نہیں کوٸی
رات بھر پھر کیوں جاگتے ہیں آپ
ساری نفرت مرے لیے اُن کو
خواب میں بھی پُکارتے ہیں آپ
ساتھ مرنے کی بھی قسم کھاٸی
پیچھے پھر اُن کے بھاگتے ہیں آپ
مول کوٸی نہیں محبت کا
پھر وفا اپنی بیچتے ہیں آپ
توڑ کر آ ٸینٸہ دل میرا
بیٹھ کر خود ہی جوڑتے ہیں آپ
کر کے مجھ سے دغا محبت میں
پھر وفا میری جانچتے ہیں آپ
ساتھ دے کر رقیب کا برسوں
پھر مجھے ہی پچھاڑتے ہیں آپ
فکر کوٸی نہیں مجھے بھی خیر
آج کس کو نوازتے ہیں آپ
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے