محبت آب و دانے کی طرح سے ہے

غزالِ جاں!
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
اُنھیں شہروں، محلّوں اور گلیوں اور گھروں تک
اور گھروں کے آنگنوں تک کھینچ لاتی ہے
جہاں وہ پلتی بڑھتی ہے
رگِ گُل کی طرح شاخِ تمنّا پر مہکتی ہے
ہَوا کے ساتھ خوشبو کی طرح بن بن کے چلتی ہے
لبِ دریا
سرِ صحرا
کسی صحنِ گلستاں میں
کسی خوابِ گریزاں میں
کسی رستے کی جھلمل میں
کسی دُوری کی منزل میں
کسی صبحِ گُل تر میں
کسی شام سُبک سَر میں
کسی دن شب کے سائے میں
کسی شب دن کے پہرے میں کھڑی ویراں سرائے میں
محبت اِک شکاری کی طرح دل کو کہیں بھی گھیرسکتی ہے
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
مقدر میں اگر یہ ہو
تو بارش کی طرح ہر ہر مسامِ جاں
کے اندر تک برستی ہے
جمالِ وصل کی صورت
گلِ صد رنگ کی ہم راز سطحوں پر مہکتی ہے
رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کے
ایک اک قطرے کے اندر درد کی صورت پگھلتی ہے
لباسِ ہجر کے اندر بدن بن کر سلگتی ہے
غزالِ دشتِ جاں۔ ۔ ۔ اے دِل!
نظر کشکول ہے
کشکول کو ہاتھوں میں رکھ، پیروں میں
مٹّی کے بنے جوتے پہن، گردن میں
مالائیں، لبوں پر بانسری کے گن سجا
اس دشت سے باہر نکل اے دل!
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
کسی کو کیا خبر اے عشق مسلک
اے غزالِ دشتِ جاں، اے دل
کہاں سے چل کے کس چوکھٹ پہ کس کے
ہاتھ سے ،کب درد کی خیرات مل جائے
محبت آب و دانے کی طرح سے ہے
ایوب خاور 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے