مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی

مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
کہیں ایسا نہ ہو پتھر اُٹھا کر مار دے کوئی

مرے سینے میں بھی اک دل چھپا بیٹھا ہے دنیا سے
عیاں کردوں اگر انصاف کا اقرار دے کوئی

مجھے صحرا نوردی گوشہ گیری کے برابر ہے
بس اب سر پھوڑ لینے کے لئے دیوار دے کوئی

کراچی میں مجھے دنیا کی ہر نعمت میسر ہے
مگر میں پیار کا پیاسا ہوں مجھ کو پیار دے کوئی

شعورؔ آنکھیں تو کھولو، یہ کہاں کی ہوشمندی ہے
محبت کے جُوے میں زندگی تک ہار دے کوئی

انور شعورؔ​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے